Posts

کیا وقعی آپکو شوگر نہیں ہے | The Dark Fact About Your Health |I Don't Have Diabetes – The Biggest Mistake

مجھے شوگر نہیں ہے ۔ سب سے بڑی غلطی۔ اگر کسی کے جسم میں سوزش،جلن،سستی،تھکاوٹ،  درد بے چینی ہے،   جوڑوں پٹھوں کا درد،   ڈپریشن،  ذہنی دباو(ٹریس)، غصہ، مزاج میں چڑچڑاپن اور بگاڑ،  اُداسی، نااُمیدی، یاداشت کا مسئلہ ہے، وزن کا بڑھنا یا کم ہونا، فیٹی لیور، یورک ایسڈ، رگوں میں کولیسٹرول پلاک کا جمنا، ہائی بی پی، دل کے امراض،کولیسٹرول   ٹرائگلیسرایئڈ،   گردوں میں درد، نظر کے مسائل،ہارمونل ایشوز، قبض اور دیگر ہاضمے کے مسائل،نیندمیں کمی یا خلل، پیشاب کا بار بار آنا،               جلد اورمسوڑھوں کے امراض پاوں کا جلنا یا سن ہونا، زحموں کا جلد ٹھیک نہ ہونا                     وغیرہ   وغیرہ   میں سے کچھ ہے اس سے پوچھتے ہیں کہ آپ کو شوگر تو نہیں ہے کہتے ہیں نہیں ہے۔ در حقیقت یہ سب سے بڑی غلطی کر رہے ہوتے ہیں۔                         ...

RAMZAN DIET PLAN | رمضان ڈائیٹ پلان | روزوں میں کیا کھائیں کیا نہ کھائیں

رمضان  ڈائیٹ پلان :۔ روزوں میں کھانے پینے کے حوالے سے کئی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ انٹرنیٹ پر پہلے ہی ہزاروں ڈائیٹ پلانز دستیاب ہیں اور ہر روز نئے پلانز بھی اپلوڈ ہوتے رہتے ہیں، اس لیے کمی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام پلانز ہر فرد کے لیے موزوں بھی ہیں؟   اس حوالے سے بہتر یہی ہے کہ ہر شخص اپنی سہولت اور استعدادکے مطابق ایک گائیڈ لائن میں رہتے ہوئے اپنا ڈائیٹ پلان خود ترتیب دے۔ میں ذاتی طور پر کوئی مخصوص ڈائیٹ پلان دینے کے بجائے آپ کو ایسی راہنمائی فراہم کرتا ہوں جسے رمضان سمیت عام دنوں میں بھی اپنایا جائے تو یقیناً فائدہ مند ثابت ہوگا بالخصوص شوگر اور موٹاپے کے شکار افراد کے لیے۔ افطار میں متوازن خوراک کا انتخاب رمضان میں سب سے زیادہ اہتمام افطار کا کیا جاتا ہے، جو اکثر کھجور کے بعدپکوڑوں، سموسوں، رولز اور شربت سے بھرپور ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ ترتیب بالکل الٹ ہونی چاہیے۔ افطار کو جتنا سادہ اور مختصر رکھا جائے، اتنا ہی بہتر ہے تاکہ معدے پر اچانک دباؤ نہ پڑے اور اضافی تیزابیت پیدا نہ ہو۔ کھجور اور سادہ پانی سے افطار کرنے کے بعد بہتر ہے کہ پک...

Foods or Bombs of Diseases | Foods Nightmare | کھانے یا بیماریوں کے بم

 کھانے  یا  بیماریوں کے بم ہمارے کھانوں میں بعض ایسی اشیاء شامل ہوتی ہیں جو ہرگز ہرگز ضروری نہیں ہوتیں لیکن ہم انہیں بے حد شوق سے کھاتے ہیں۔ حقیقت میں یہ غذائیں نہیں بلکہ بیماریاں پیدا کرنے والے بم ہیں جو ہمارے جسم میں جمع ہو کر بعد میں سنگین مسائل کا سبب بنتے ہیں۔ ان کھانوں کا استعمال 10 سے 15 سال بعد شوگر، موٹاپا،  ہارٹ اٹیک، فیٹی لیور، گردوں کی بیماریاں، کولیسٹرول، اندھا پن، سوزش، جوڑوں اور پٹھوں کے درد،  جسمانی کمزوری سمیت کئی پیچیدہ امراض کوجنم دیتا ہے۔   ان مضرِ صحت کھانوں  میں سے چند پر نظر ڈالتے ہیں   : حلوہ پوری حلوہ پوری ایک مشہور ناشتہ ہے لیکن غذائیت کے لحاظ سے انتہائی نقصان دہ ہے۔ پوری خالص میدے اور چینی سے بنتی ہے جو کاربوہائیڈریٹس ہیں جوکہ شوگر، چربی اور موٹاپے کا باعث بنتے ہیں۔ پھر پوری کو کوکنگ آئل میں مکمل طور پر تلنے کے لیے ڈبو دیا جاتا ہے۔ کوکنگ آئل پہلے سے ہی صحت کے لیے مضر ترین ہوتا ہے اور پھر بار بار گرم ہونے سے زہریلا ہو جاتا ہے اور انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر۔ مزید، حلوہ بھی میدہ، گھی، چینی اور تیل سے تیار کیا جاتا ہے جس ...

4 White Poisons | چار سفید زہر

      چار سفید زہر   عالمی ادارہ صحت اور غذائی ماہرین بار بار متنبہ کر چکے ہیں کہ سفید چینی،  سفید آٹا ، سفید چاول  اور  سفید نمک  کی زیادتی ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ انھیں چار سفید زہر بھی کہا جاتا ہے۔   اگر ہم اپنی خوراک میں سے  ان نقضان دہ اجزاء کو کم سے کم کر کے بہتری لائیں اسے  متوازن کریں  تو ہم نہ صرف کافی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ ایک صحت مند ،متحرک  اور خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔ سفید چینی سفید چینی کو  ''میٹھا زہر''  کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مختلف بیماریوں کی جڑ ہے۔ اس کا زیادہ استعمال موٹاپا، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ سفید چینی کا کوئی غذائی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ صرف کیلوریز فراہم کرتی ہے جو جسم میں چربی بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔   سفید آٹا سفیدفائن آٹا غذائیت سے خالی غذائی اجزا سے محروم ہوتا ہے۔ یہ ہاضمے کے مسائل، قبض،  ذیابیطس اور موٹاپے کا باعث بنتا ہے۔ میدے سے بنی ہوئی غذائیں، ڈبل روٹی، بسکٹ، کیک، پاستے،نوڈلز  وغیرہ بھی انتہائی خطرے ناک  ہ...

Importance of Balance Diet | What Is Healthy Diet | Why Balance Diet Is Important For Poor And Middle Class People

    بیلنس ڈائیٹ – غریب اور مڈل کلاس کے لیے بچت اور صحت کا راز اکثر لوگہ سمجھتے ہیں کہ بیلنس ڈائیٹ صرف امیروں کے چونچلے، عیاشی    اور لائف سٹائل ہے جو انہوں نے مغربی معاشرے سے اپنائی ہے۔ غریب آدمی کے لیے یہ ناممکن چیز ہے۔ ہم تو دو وقت کی روٹی مشکل سے کماتے ہیں، بیلنس ڈائیٹ کہاں سے کریں؟  جو ملتا ہے کھا لیتے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بیلنس ڈائیٹ امیروں سے زیادہ غریبوں اور مڈل کلاس طبقے کے لیے ضروری ہے۔ کیونکہ امیروں کے پاس وسائل ہوتے ہیں، مہنگا علاج کروا سکتے ہیں، ریگولر میڈیکل   چیک اپ بھی کراتے رہتے ہیں، جم، کلب اور ایکسرسائز کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں چاہے فیشن کے طور پر یا صحت کی دیکھ بھال کے لیے۔ خورا ک کا بھی خیال رکھتے ہیں، چاہے سوسائٹی میں اچھا دکھنے کے لیے ہی سہی، لیکن کچھ نہ کچھ احتیاط ضرور کرتے ہیں۔ لیکن غریب اور مڈل کلاس افراد ایسا نہیں کرتے۔ یہ متوازن غذا، ایکسرسائز، اور صحت کی دیکھ بھال کو غیر ضروری سمجھتے ہیں جو کہ سب سے بڑی غلطی ہے۔ اور نہ ان کے پاس زیادہ بیمار ہونے اور مہنگا علاج کروانے کی گنجائش ہوتی ہے۔ بیلنس ڈائیٹ کیوں...

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -16)| Why We Eat Foods | ہم کھانا کیوں کھاتے ہیں

 آپ کھانا کیوں کھاتے ہیں؟؟؟ بھوک مٹانے کے لیے پیٹ بھرنے کے لیے زندہ رہنے کے لیے ذائقے کے لیے غذائیت کے لیے روز کا روٹین ورک سجھ کر۔ اس سوال کو اس طرح سے بھی سمجھتے ہیں۔ جسم کو کیسے کھانے کی ضرورت ہے؟؟؟ ذائقے دار کھانے کی یا غذائیت والے کھانے کی آپ نے اکثر سننا ہوگا کہ آج گھر میں بڑا  ذائقے دار کھانا پکا ہے۔ یا کھانا بڑا ذائقے دار تھا۔ یا کھانا بہت اچھا تھا۔ یا فلانے کے ہاتھ میں بڑا ذائقہ ہے۔ یا فلانے ہوٹل ریسٹورینٹ کا کھان بڑا ذائقے دار ہے یا اچھا ہے یا فلانے کی شادی کا کھانا بڑا مزیدار تھا اچھا تھاوغیرہ وغیرہ۔ کھانے پینے کی اس طرح کی تعریفیں تو ہم سب ہی کرتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں۔ یہ تو روز کا معمول ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی یہ بھی سنا کہ آج گھر میں کھانا بہت غذائیت والا تھا یا صحتمند تھا۔ یا فلانے ہوٹل ریسٹورینٹ کا کھان کھانا بہت غذائیت والا تھا یا صحتمند تھا یا ہوتا ہے۔ یا کوئی ریسیپی کسی نے کسی کو دی ہو جس میں کھانے کو غذائیت والا بنانے کی ترکیب ہو۔یا کسی کمپنی نے کوئی پروڈکٹ کا اشتہار چلایا ہو ٹی وی پر کہ اس کی یہ پروڈکٹ بہت صحت والی ہے یا کسی شیف نے بتایا ہو یا کسی چینل...

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -15)| Why We Get Sick | پم بیمار کیوں ہوتے ہیں

 ہم بیمار کیوں ہوتے ہیں کبھی سوچا آپ نے کی آپ بیمار کیوں ہوتے ہیں۔دنیا میں شاہد ہی کوئی ایسا شخص گزرا ہو جو کھبی نہ کبھی بیمار نہ ہوا ہو۔جن بیماریوں پر ہمارا کنٹرول نہیں ہے ہم کچھ زیادہ نہیں کر سکتے ہیں جیسے پیدائشی بیماریاں۔مثلاً دل میں سوراخ۔ ایسی بیماریاں ہمارا موضوع نہیں ہیں۔ اور وہ  بیماریاں جو حادثات کی وجہ سے بھی ہو جاتیں ہیں یہ بھی ہمارا موضوع نہیں ہیں۔اور وہ بیماریاں بھی شامل نہیں ہیں جو موسمی ہوتیں ہے یا کسی  وائرس بیکٹریا کی وجہ سے ہو جاتیں ہیں مثلاً ڈینگی بخار، چکن گونیا، اور جس طرح کورونا دنیا بھر میں پھیل گیا تھا ایک وائرس کی وجہ سے۔ البتہ اگر ہمارا ایمنیون سسٹم مضبوط ہو گا تو ہمارا جسم ان سے جلد نمٹ لیتا ہے۔ ہم بات اُن بیماریوں کے مطلق بات کریں گے جن کو خود ہم دعوت دیتے ہیں۔ برسوں اُن کی پرورش کرتے ہیں۔اُن پر محنت کرتے ہیں  پیسہ خرچ کرتے ہیں۔یہ پیدا ہوتیں ہیں ہمارے کمفرٹ زون کی وجہ سے۔ ماڈرن لائف سٹائل کی وجہ سے۔ غیر صحت بخش کھانوں کی وجہ سے۔ یہ نہ صرف ہماری زندگی کے معیار کو کم کرتی ہیں بلکہ بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں ...