کیا وقعی آپکو شوگر نہیں ہے | The Dark Fact About Your Health |I Don't Have Diabetes – The Biggest Mistake

مجھے شوگر نہیں ہے ۔ سب سے بڑی غلطی۔

اگر کسی کے جسم میں سوزش،جلن،سستی،تھکاوٹ،  درد بے چینی ہے،   جوڑوں پٹھوں کا درد،   ڈپریشن،  ذہنی دباو(ٹریس)، غصہ، مزاج میں چڑچڑاپن اور بگاڑ،  اُداسی، نااُمیدی، یاداشت کا مسئلہ ہے، وزن کا بڑھنا یا کم ہونا، فیٹی لیور، یورک ایسڈ، رگوں میں کولیسٹرول پلاک کا جمنا، ہائی بی پی، دل کے امراض،کولیسٹرول  ٹرائگلیسرایئڈ،  گردوں میں درد، نظر کے مسائل،ہارمونل ایشوز، قبض اور دیگر ہاضمے کے مسائل،نیندمیں کمی یا خلل، پیشاب کا بار بار آنا،              جلد اورمسوڑھوں کے امراض پاوں کا جلنا یا سن ہونا، زحموں کا جلد ٹھیک نہ ہونا                   وغیرہ  وغیرہ  میں سے کچھ ہے اس سے پوچھتے ہیں کہ آپ کو شوگر تو نہیں ہے کہتے ہیں نہیں ہے۔ در حقیقت یہ سب سے بڑی غلطی کر رہے ہوتے ہیں۔                                               
یہ درست ہے کہ ان کے خون میں تو شوگر نارمل ہوتی ہے لیکن حقیقت میں ان کو شوگرتو بہت پہلے ہوچکی ہوتی ہے بس ان کے خون میں نہیں آرہی ہوتی ہے کیونکہ انسولین نے اسے خون سے نکال کر جسم کے دیگر حصوں میں بھیجا ہوتاہے۔
میرا عویٰ ہے کہ اگر اس سیدھی سادھی سائنس کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو انسان زندگی بھر نہ صرف شوگر  بلکہ ان بیماریوں سے بچ سکتا ہے۔ اس میں صرف دو چیزوں کو سمجھنا ہے۔ ایک ہے کاربو ہائیڈریٹس اور دوسرا ہے انسولین اور انسولین ریزسٹینس
کاربو ہائیڈریٹس (کاربز) کاکام ہے جسم کوگلوکوز مہیا کرنا،جس سے جسم انرجی حاصل کرتا ہے۔ کاربو ہائیڈریٹس کھانے کے بعد ہضم ہو کر خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔یہ پانی کے علاوہ سب غذاوں میں ہوتے ہیں لیکن اجناس میں زیادہ ہوتے ہیں۔ جسم کے لیے چینی بھی کاربو ہائیڈریٹس ہے اور گندم بھی کاربو ہائیڈریٹس ہی ہے چاول بھی مکئی بھی باجرہ بھی اور شہد بھی کاربو ہائیڈریٹس  ہیں۔ انکا میٹھا یاپھیکاہو نا جسم کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ذائقے کا تعلق صرف زبان کی حد تک ہے۔
انسولین ایک  ہارمون ہے جسے ہمارا  لبلبہ بناتاہے۔اسکا کام ہے خون میں شوگر کو بڑھنے سے روکنا۔ خون میں ہر وقت صرف چار گرام گلوکوز (شوگر) ہوناچاہیے۔جب اس سے زیادہ گلوکوزخون میں آتا ہے تو لبلبہ بھی زیادہ انسولین بناتاہے تاکہ جلد از جلد خون سے زائد گلوکو ز کو نکال کر خلیات میں پہنچا سکے۔
انسولین ریزسٹینس  
خلیات کی ضرورت سے زیادہ اور بار بارگلوکوز لیکر جب انسولین ان تک جاتا ہے تو یہ ایک حد سے زیادہ گلوکوز لینے سے انکار کر دیتے ہیں اور مزاحمت شروع کرتے ہیں جسے انسولین ریزسٹینس کہتے ہیں جس کے نتیجے میں خلیات کو نقضان پہنچتا ہے۔ چودہ پندرہ سالوں تک تو انسولین اور خلیات میں یہ جنگ ہوتی رہتی ہے جس کے دوران جسم کے سارے سیلز انسولین ریزسٹینس کی وجہ سے زخمی ہو جاتے ہیں ان کے کام کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بیماریاں بھی شروع ہو جاتیں ہیں کسی میں زیادہ اور کسی میں کم۔ اگر اس دوران ٹیسٹ کروایا جائے تو خون میں شاگر لیول نارمل ہوتا ہے جو وجہ بنتا ہے شوگر اور اسکے بعد کی تمام بیماریوں کا۔
ان برسوں میں ضرورت سے زیادہ انسولین پیدا کر نے کے سبب لبلبہ بھی پچاس فیصد سے زیادہ بیمار ہو چکا ہوتا ہے جسکی وجہ انسولین کی پیداوار کم ہو نا شروع ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں اب جا کرخون میں شوگر بڑھنا شروع ہو ئی ہے۔ جب شوگر ایک حد سے بڑھ جائے تو کہتے ہیں شوگر ہو گئی ہے۔ یعنی ڈائبیٹس۔ ذیابیطس۔
اگر آج کسی کو شوگر ڈائینگنوز ہوئی ہے تو اسکا مطلب ہے کہ یہ دس پندرہ بیس سال پہلے شروع ہو گئی تھی لیکن انسولین کی وجہ سے خون میں نہیں تھی بلکہ جسم کے مختلف حصوں میں چلی جاتی تھی لہذا بلڈٹیسٹ میں نہیں آرہی تھی۔ یعنی شوگر توخون میں نارمل تھی لیکن انسولین دن بہ دن بڑھتی جا رہی تھی اور لبلبہ کمزور ہو رہا تھا۔
جو گلوکوز انرجی بننے سے بچ جاتا ہے تو انسولین سے جسم کے  فیٹ سیلز پہچا دیتا ہے جو اس گلوکوز کو چربی کی شکل میں اسٹور کرتے ہیں لمبے عرصے کے لیے۔جب جسم کو انرجی کی ضرورت ہوتی ہے اگر اسے کہیں اور سے نہ ملے تو پھر جسم اس جمع شدہ چربی کو استعمال کر کے توانائی حاصل کرتا ہے۔
ہمیں کتنی گلوکوز چاہیے اور ہم لیتے کتنی ہیں:۔
جسم اپنی توانائی کا65 فیصد تک کاربو ہائیڈریٹس یعنی گلوکوز سے حاصل کرتا ہے۔ سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ (ایک دن 24 گھنٹوں) کے لیے کتنا گلوکوز ہمارے جسم کی ضرورت ہے اور ہم کتنالیتے ہیں؟؟؟ اگر یہ اچھی طرح سمجھ جائیں تو شوگر کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔نہ صرف شوگر کا مسئلہ حل ہو جائے گا بلکہ اور بھی بہت ساری سنگین بیماریاں بھی ختم ہو جائیں گی۔
ہمیں دن بھر کے لیے جو انرجی چاہئے ہوتی ہے وہ چینی، روٹی اور چاولوں کے بغیر بھی مل جاتی ہے۔اسی لیے بچہ پیدا ہونے کے بعد صرف دودھ استعمال کرتا ہے جس سے اُسے مطلوبہ انرجی مل جاتی ہے۔ اگر کوئی فرد صرف گھر میں رہتا ہے کوئی خاص مصرفیات نہیں ہیں مثلاً ریٹائرڈ حضرات یا بزرگ خواتین تو انھیں دن بھر کے200گرام گلوکوز بھی کافی ہوتا ہے۔ جو افراد گھر میں تو رہتے ہیں لیکن ایکٹیو بھی ہوتے ہیں مثلاً گھر کے کام کاج کرنا، مارکیٹ جانا، سیڑھیاں چڑھنا، بچوں کو سکول چھوڑنا واپس لانا، مسجد جانا وغیرہ وغیرہ تو انھیں 250گرام کافی ہوتا ہے۔ اور جو جابز کرتے ہیں آفس آنے جانے میں کوئی تیس کلومیٹر سفر کرتے ہیں لیکن زیادہ مشقت والا کام نہیں ہوتا آفس ورک ہوتا ہے کچھ ورزش بھی کرتے ہیں تو انھیں 300 گرام گلوکوز بہت ہوتا ہے۔ اور جوافراد مشقت والا کام کرتے ہیں مثلاًمزدور یا کھلاڑی یا جو زیادہ ایکسرسائز جم وغیرہ کرتے ہیں تو انھیں اور بھی زیادہ ضرورت ہوتا ہے اپنی جسمانی مضروفیات کے حساب سے۔
دوسری طرف ہم کتنی شوگر لیتے ہیں۔ 50 گرام سفید آٹے سے گھر کی بنائی گئی صرف ایک چپاتی میں 40گرام شوگر ہوتی ہے۔ پانچ چھ روٹیاں تو ہر کوئی کھا جاتا ہے۔ جبکہ صرف چھ روٹیوں کی شوگر 240 گرام بنتی ہے۔اس علاوہ چار کپ چائے اور تین پلیٹ سالن میں کاربز تقریباً 100 گرام تک ہو جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ کبھی  بسکٹ، کبھی اسنیکس، کبھی چپس،کبھی سموسے پکوڑے رولز شوارمے، کبھی مٹھائی،کبھی جوس،کبھی سوڈا، کبھی سوفٹ ڈرنک، کبھی فروٹ، کبھی فروٹ چاٹ، کبھی پاپ کار ن۔یعنی مزید کوئی 100 گرام۔اسطرح روزانہ لگ بھگ 200 گرام تک گلوکوز ہم اپنی ضرورت سے زیادہ لیتے ہیں جو جسم میں چربی کی شکل میں جمع ہوتی رہتی ہے جو پیٹ کے گرد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔اسکے بعد تمام اعضاء میں جمع ہوتی رہتی ہے۔
اس طرح ہماری ضرورت سے زیادہ گلوکوزوجہ بنتی ہے نہ صرف شو گر اور کئی خطریناک امراض کی جو خون میں شوگرظاہر ہونے سے سالوں پہلے شروع ہو جاتے ہیں۔ لہذا ضروی ہے کہ ہم اپنے ڈائیٹ سے کاربوہائیڈریٹس زیادہ سے زیادہ کم کریں نہ کہ خون میں شوگر لیول پر انحصار کریں۔ جب خون میں شوگر ظاہر ہوگی تب تک تو بہت بہت دیر ہو چکی ہوگی۔شوگراندر سے جسم کو کھا کر کھوکلا کر چکی ہوگی۔
کاربوہائیڈریٹس کم کرنے کا سب سے آسان طریقہ ہے روٹی چاول چینی کا استعمال کم سے کم کریں انکی جگہ سلادکا استعمال بڑھائیں ،کم میٹھے پھل کھا ئیں ،اور بیکری کے جملہ ایٹمز  بسکٹ، آئسکریم کیک،اسنیکس، آلو کے چپس، سموسے پکوڑے رولز شوارمے، مٹھائی،حلوے،حلوہ پوری،جوس، سوڈا، سوفٹ ڈرنکس، فروٹ چاٹ، پاپ کار ن، وغیرہ بالکل چھوڑ دیں تو سب سے زیادہ اچھا ہے یا انتہائی کم کر دیں۔
اب آپ میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جن کو کچھ نہ کچھ مرض تو ہے لیکن وہ شوگر کے مریض نہیں ہیں۔ اگر آپ کی خوراک میں بھی کاربوہائیڈریٹس زیادہ ہیں تو  پھر تیار رہیں ۔۔۔۔۔۔  
x

Comments

Popular posts from this blog

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -2) | Diet And Lifestyle Before Diabetic | Ziyabtas Se Pehle Ki Khurak Aur Tars Zandgi | ذیابیطس سے پہلے کی خوراک اور طرز زندگی

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -4) | خوراک غذا اور شوگر | Foods and Sugar Contents | Carbs Proteins Fats | What is Sugar Diabetes | Where glucose come from in blood

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -1) | Min Ne Ziyabtas Ko Kise Reverse Kiya | میں نے شوگر کیسے ریورس کی