How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -1) | Min Ne Ziyabtas Ko Kise Reverse Kiya | میں نے شوگر کیسے ریورس کی
میں نے شوگر کیسے ریورس کی
ان بلاگز میں ، میں اپنے ذاتی تجربات شیئر کروں گا کہ میں نے اپنی شوگر کوکیسے ریورس کیا تاکہ میرے تجربات سے آپ بھی فائدہ اُٹھا ئیں۔ نہ صرف شوگر اور اس سے ہونے والی دیگر بیماریوں سے نجات پائیں بلکہ مالی بوجھ بھی کم ہو جو دوائیوں ڈاکٹروں ٹیسٹوں کی وجہ سے برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔
درحقیقت یہ بلاگز میری زیر تالیف شوگر کے مطلق کتاب کا حصہ ہیں۔ ان میں کچھ بھی کہیں سے کاپی پیسٹ نہیں ہے اور نہ ہی کسی اے آئی ٹول سافٹ ویئر نے لکھا ہے اس لیے ان میں آپ کواردوعلم وادب کے حوالے سے کچھ خاص نہیں ملے گا بلکہ بہت ساری غلطیاں ملیں گی کیونکہ میرا علم و ادب سے دور کا بھی تعلق نہیں اور نہ ہی میڈیا پرسن ہوں ۔ آجکل جتنے بلاگز ہیں وہ یا توکاپی پیسٹ ہوتے ہیں یا ہائی پروفیشنلز بلاگرز کے ہوتے ہیں یا اداروں کے لہذا میرے بلاگز ان کی طرح اچھے نہیں ہونگے جس کے لیے معزرت خواہ ہوں۔اور نہ ہی حکیموں اور یوٹیوبرز والوں کی طرح چٹ پٹے دعوئے ہونگے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ میں جو کچھ میں آپکو بتاوں گا تفصیل سے اردو میں انتہای آسان اور عام فہم زبان میں کسی نے بھی انٹرنیٹ پر اب تک نہیں بتایا ہوگا۔ میرا تجربہ ہے کہ جب صحت کے بنیادی کنسیپٹ کلیئر ہوتے ہیں تو پھر ان پر عمل کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے اور یہی میرا مقصد ہے ۔چاہے آپ شوگر کے مریض ہوں یا نہ ہوں سب کے لیے یہ انتہائی اہم اور گیم چینجر معلومات ہیں جن پر عمل کرنا بھی انتہائی آسان ہے اور مفت بھی۔
اور نہ ہی یہ کوئی میڈیکل کی کتاب ہے جس میں مشکل ٹرمز استعمال کی گئی ہوں۔چونکہ یہ میرے ذاتی تجربات ہیں ان میں میری فیلزنگ ہیں جذبات ہیں احساسات ہیں، تشکر ہے اپنے رب کا ا ورایک جذبہ ہے مقصد ہے کہ اپنے تجربات رب کے زیادہ سے زیادہ بندوں تک پہنچاوں ۔اس مقصد میں آپ بھی اپنا حصہ ڈالیے گایہ آرٹیکلز دوسروں تک پہنچا کر۔
صحت کے اس مشکل ترین سفر میں کچھ حیرت انگیز چیزیں سیکھی ہیں جو ہیں تو حقیقت لیکن ہیں ناقابل یقین، وہ بھی آپ سے شیئر کروں گا۔
👈مثلا(ڈائبیٹس) شوگر ایسی ضدی بیوی کی طرح ہے جس سے بڑھ کر کوئی دوست اورجس سے بڑھ کر کوئی دشمن نہیں ہو سکتا۔ اسکا خیال رکھیں گے تو یہ دنیاجنت بنا دے گی۔اسکی نہیں مانیں گے تو یہ زندگی کوعذاب بنا دے گی۔
👈مثلاً ڈائبیٹس کوئی بیماری ہی نہیں بلکہ یہ جسم کو گلوکوز کی سپلائی کی مقدار اور اسکے استعمال کا سادہ سامعاملہ ہے۔البتہ یہ بہت ساری بیماریوں کی ماں ضرور ہے۔
مثلاً ڈائبیٹس کی کوئی قابل عمل دوائی بن ہی نہیں سکتی۔ اگر بن جائے تو انسان کھاتے ہی جلد مر جائے گا۔👈
مثلاً انسانی جسم کے لیے چاول گندم بھی چینی ہی ہوتے ہیں۔ 👈
مثلاً ڈائبیٹس چائے پینے سے نہیں روٹی چاول کھانے سے ہوتی ہے۔👈
مثلاً ہم کھانے کو نہیں کھاتے بلکہ کھانا ہماری صحت کو کھا رہا ہوتا ہے۔👈
مثلاً ہم چاول روٹی چینی کھائے پئیں بغیر بھی بہت اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔👈
👈مثلاً ڈاکٹر کہتے ہیں اگر ایک بار شوگر ہو جائے تو کبھی ختم نہیں ہوتی زیادہ سے زیادہ دوائیوں سے کنٹرول ہو سکتی ہے بالکل غلط کہتے ہیں۔اسی طرح حکیم اور یوٹیوبرز کہتے ہیں کہ ان کی دوائی کھانے یا انکا ٹوٹکا استعمال کرنے سے شوگر جڑ سے ختم ہو جاتی ہے بھی بالکل غلط کہتے ہیں۔
اگر میں کہوں کہ میرے لئے ذیابیطس (شوگر۔ڈائبیٹس) رب کا تحفہ عظیم ثابت ہوا تو براہ کرم مجھے پاگل مت سمجھیں گا۔ کیونکہ میں تھابیماریوں کا گھر، جن میں شامل تھیں
👈کولیسٹرول
ڈپریشن👈
شدید تھکاوٹ اور بوجھل جسم و جان👈
پورے جسم میں درد بالخصوص ٹانگوں اور پنڈلیوں میں شدیددرد👈
جوڑوں، پٹھوں اور نچلی کمر میں ناقابل برداشت تکلیف 👈
پاوں کا جلنا، گھنٹوں ٹھنڈے پانی میں پاوں ڈبویرکھنا 👈
وزن کاتیزی سے بڑھنا بالخصوص پیٹ👈
بہت زیادہ پیاس لگنا جسکی وجہ سے بار بار باتھ روم جانا خاص کر رات کو👈
سینے میں مسلسل درد جو لہر کی شکل میں بائیں ہاتھ تک جاتا تھا👈
معدے کے جملہ مسائل بالخصوص شدید تیزابیت، گھٹی ڈھکاریں،گیس اور قبض 👈
ہائی بلڈ پریشراور مسلسل سر درد👈
طبیعت میں چڑچڑاپن اور غصہ👈
روزانہ کم سے کم پندرہ گولیاں کھانے پر مجبور تھا۔ کھانے پینے سے زیادہ خرچہ ادویات کا تھا۔
پھر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا۔ کوئی پانچ سال پہلے مجھے ڈائبیٹس (شوگر) ڈائیگنوز ہوگئی۔ اُس وقت میں نے فیصلہ کیا کہ اگر یہ کھانے پینے کی وجہ سے ہوی ہے تو پھر یہ ٹھیک بھی کھانے پینے کی وجہ سے ہی ہوگی۔ پھر میڈیکل تاریخ کا معجزہ ہوگیا جو ناممکن تھا ممکن ہوگیا۔ اوراب میں ڈائبیٹس فری ہوں۔ نہ صرف ڈائبیٹس فری زندگی انجوائے کر رہا ہوں بلکہ ساتھ ساتھ یہ جتنے امراض تھے سب سے بھی نجات پا چکا ہوں۔
بیشک سب تعریفیں اُس رب کے لیے ہیں جو بڑا ہی مہربان ہے اپنے بندوں پر۔ بس ہم نہ اُسکی حکمت کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ اُسکے رازوں تک پہنچ سکتے ہیں اور بہت جلد نا اُمید اور مایوس ہو جاتے ہیں۔اب اُن ادویات میں سے کوئی دوائی نہیں لے رہا ہوں۔ اور جو کچھ پسند ہے کھا پی بھی رہا ہوں۔56سال کی عمر میں جسمانی طور پر تیس سال پہلے جیسا فٹ محسوس کر رہا ہے۔بلکہ اُس سے بھی بہتر۔یہ سب کیسے ہوا، صرف خوراک میں ضروری تبدلیوں، لائف سٹائل بدلنے اور اپنے کمفرٹ زون کی تھوڑی بہت قربانی دینے سے۔ یہی سب کچھ بتاوں گا تفصیل سے ان بلاگز میں۔آنے والے بلاگز بہت ہی معلوماتی اور فائدہ ہونگے ساتھ رہیے گا۔اُمید ہے کہ ہر ہفتے ویک اینڈ پرایک بلاگ پوسٹ کروں گا اور یہی سب کچھ یوٹیوب پر بھی بتانے کی کوشش کروں گالیکن کچھ کنفرم نہیں ۔
کمنٹس کے علاوہ بھی مجھ سے واٹس ایپ نمبر03002630137 پر رابطہ کر سکتے ہیں وائس یا ٹیکسٹ میسجز کے ذریع۔ اگر کتاب منگوانے چاہتے ہیں تو ای میل یاواٹس ایپ کر دی جائے گی ۔ کراچی کے رہنےوالے ملاقات بھی کر سکتے ہیں۔اس مقصدکے لیے جو بھی ممکن ہوامجھ سے انشاءاللہ کروں گا۔
اللہ حافظ
حسین سدوزئی
کراچی
Comments
Post a Comment