Posts

ٓرٹیکل 10 (پارٹ -ا) شوگر کیسے بیمار کرتی ہے

Image
 

شوگر کے مریض زندگی بھر دوائیاں کھائیں یا خوراک ٹھیک کریں |Diabetics take medications for life or fix their diet

Image
 

موٹاپا ۔ بیماریوں کی نرسری | Obesity is the nursery of diseases |

 موٹاپا۔ بیماریوں کی نرسری موٹاپا وباء کی طرح پھیل رہا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہوگا جہاں یہ مسئلہ نہ ہو۔ وزن بڑھنے سے صرف سمارٹنس ہی کم نہیں ہوتی بلکہ اسکا مطلب ہے آپ نے اپنے اندر بیماریاں پالنا   شروع کر دی ہیں۔ اب آپ 15-20 سال کے بعد شوگر، دل کی بیماریاں، کولیسٹرول،بلڈ پریشر، فالج،گردوں کی بیماریاں، آنکھوں کی بیماریاں، اعصابی بیماریاں، سانس کی بیماریاں،ہاضمے کی بیماریاں  پاؤں کے زخم اور انفیکشن، فیٹی لیور، کینسر،جوڑوں کے درد ہارمونل ایشوز، ڈپریشن جیسی بیماریوں کا گھر ہونگے۔ لیکن ان سے بچنا انتہائی آسان ہے اور بالکل مفت بھی۔ نہ کوئی دوا، نہ ڈاکٹر اور نہ حکیم۔ جو کچھ کرنا ہے آپ نے خود کرنا ہے۔ کھانے میں سے روٹی چاول جتنا کم کر سکتے ہیں کریں اور ان کی جگہ سلاد شامل کریں جو بھی موسم کے حوالے سے سلاد ہو زیادہ سے زیادہ کھائیں۔ روٹی میں بھی میدے یا سفید فائن آٹے کے بجائے چکی کالال آٹا یا ملٹی گرین یا بیسن استعمال کریں جن میں چھلکے یعنی فائبرز زیادہ ہوں۔ہوٹل کی نان اور پراٹھے تو بالکل استعمال نہ کریں۔جتنا جلد یہ کریں گے اُتناہی اچھا ہے۔ اسپغول کا چھلکا رات کو سوتے وقت ضرور ل...

شوگر کے مریضوں کے لیے افطار کی خاص دیسی ڈرنک | A Special Iftar Drink for Diabetes Patients

شوگر کے مریضوں کے لیے میجک ڈرنک افطار کے دوران زیادہ مقدار میں چینی والے مشروبات (روح افزا، جوس، کولڈ ڈرنکس) اور زیادہ کاربوہائیڈریٹس والی غذائیں (کھجور، میٹھے پکوان، سفید آٹا، چاول وغیرہ) فوری طور پر خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھا دیتی ہیں۔ اسکے علاوہ روزے کےدوران پہلے سے ہی جگر بھی گلوکوز بنا رہا ہوتا ہے اور کچھ ضروری ہارمونل تبدیلیاں بھی ہو رہی ہوتیں ہیں جسکی وجہ سے روزے کے دوران بھی جسم کو گلوزضروری مقدار میں مل رہا ہوتا ہے تاکہ جسم کو ضروری انرجی ملتی رہے لہذا افطار کے بعد خون میں شوگر کا کافی زیادہ بڑھنا بالکل قدرتی عمل ہے۔ لیکن زیادہ گلوکوز کی وجہ سے اسپائک بھی آتی ہے جسکی وجہ سے شوگر کے مریضوں کی مشکلات بڑھ جاتیں ہیں جن کی تفصیل یہاں ممکن نہیں البتہ اپنے بلاگز میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں وہاں سے پڑھ سکتے ہیں۔ اب میں اس کا حل بھی بتاتا ہوں جو میں خود بھی کر رہا ہوں۔ نہ صرف رمضان میں بلکہ سالوں سے کررہا ہوں ۔ صبح سویرے سحری کے بعد پانی گرم کر کے اس میں میتھی دانے(چھوٹے دانے والی) ایک چمچ اور دارچینی ایک بڑا ٹکرا  ڈال کر چھوڑ دیں۔ اس میں زیرہ ،کلونجی، اجوائن اور دو لونگ بھی ڈال دیں ...

رمضان - جسمانی بیماریوں سے شفا حاصل کرنے کا مہینہ

  اللہ تعالیٰ آپ سب کو رمضان کی بے شمار رحمتوں اور برکتوں سے نوازے۔ رمضان نہ صرف روحانی دولت سمیٹنے کا مہینہ ہے بلکہ یہ جسمانی بیماریوں سے شفا حاصل کرنے کا بہترین موقع بھی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہم لاعلمی، بے صبری، اور زبان کے ذائقے کی خاطر ایسی غیر صحت بخش غذا کھاتے ہیں اور حد سے زیادہ کھا لیتے ہیں                               Over Load ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں فیٹی لیور، شوگر، کولیسٹرول، بدہضمی، بلڈ پریشر اور دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ روزے کے دوران جسم اضافی چربی کو توانائی کے طور پر استعمال کرتا ہے جس سے وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے میٹابولزم بہتر ہوتا ہے معدہ اور آنتوں کو آرام ملتا ہے آنتوں کی صفائی ہوتی ہے قبض بدہضمی تیزابیت جیسے ہاضمے کے مسائل کم ہو جاتے ہیں۔انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے   بلڈ شوگر لیول متوازن رہتا ہے جو شوگر کے مریضوں کے لیے مفید ہے۔کم چکنائی اور زیادہ فائبر والی خوراک دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے کولیسٹرول کی سطح کم ہو تی ہےاور بلڈ پریشر بھی کنٹر...

کیا وقعی آپکو شوگر نہیں ہے | The Dark Fact About Your Health |I Don't Have Diabetes – The Biggest Mistake

مجھے شوگر نہیں ہے ۔ سب سے بڑی غلطی۔ اگر کسی کے جسم میں سوزش،جلن،سستی،تھکاوٹ،  درد بے چینی ہے،   جوڑوں پٹھوں کا درد،   ڈپریشن،  ذہنی دباو(ٹریس)، غصہ، مزاج میں چڑچڑاپن اور بگاڑ،  اُداسی، نااُمیدی، یاداشت کا مسئلہ ہے، وزن کا بڑھنا یا کم ہونا، فیٹی لیور، یورک ایسڈ، رگوں میں کولیسٹرول پلاک کا جمنا، ہائی بی پی، دل کے امراض،کولیسٹرول   ٹرائگلیسرایئڈ،   گردوں میں درد، نظر کے مسائل،ہارمونل ایشوز، قبض اور دیگر ہاضمے کے مسائل،نیندمیں کمی یا خلل، پیشاب کا بار بار آنا،               جلد اورمسوڑھوں کے امراض پاوں کا جلنا یا سن ہونا، زحموں کا جلد ٹھیک نہ ہونا                     وغیرہ   وغیرہ   میں سے کچھ ہے اس سے پوچھتے ہیں کہ آپ کو شوگر تو نہیں ہے کہتے ہیں نہیں ہے۔ در حقیقت یہ سب سے بڑی غلطی کر رہے ہوتے ہیں۔                         ...