موٹاپا ۔ بیماریوں کی نرسری | Obesity is the nursery of diseases |
موٹاپا۔ بیماریوں کی نرسری
موٹاپا
وباء کی طرح پھیل رہا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہوگا جہاں یہ مسئلہ نہ ہو۔ وزن بڑھنے
سے صرف سمارٹنس ہی کم نہیں ہوتی بلکہ اسکا مطلب ہے آپ نے اپنے اندر بیماریاں
پالنا شروع کر دی ہیں۔ اب آپ 15-20 سال کے
بعد شوگر، دل کی بیماریاں، کولیسٹرول،بلڈ پریشر، فالج،گردوں کی بیماریاں، آنکھوں کی
بیماریاں، اعصابی بیماریاں، سانس کی بیماریاں،ہاضمے کی بیماریاں پاؤں کے زخم اور انفیکشن، فیٹی لیور، کینسر،جوڑوں کے درد
ہارمونل ایشوز، ڈپریشن جیسی بیماریوں کا گھر ہونگے۔
لیکن
ان سے بچنا انتہائی آسان ہے اور بالکل مفت بھی۔ نہ کوئی دوا، نہ ڈاکٹر اور نہ حکیم۔
جو کچھ کرنا ہے آپ نے خود کرنا ہے۔
کھانے
میں سے روٹی چاول جتنا کم کر سکتے ہیں کریں اور ان کی جگہ سلاد شامل کریں جو بھی
موسم کے حوالے سے سلاد ہو زیادہ سے زیادہ کھائیں۔ روٹی میں بھی میدے یا سفید فائن
آٹے کے بجائے چکی کالال آٹا یا ملٹی گرین یا بیسن استعمال کریں جن میں چھلکے یعنی
فائبرز زیادہ ہوں۔ہوٹل کی نان اور پراٹھے تو بالکل استعمال نہ کریں۔جتنا جلد یہ کریں
گے اُتناہی اچھا ہے۔ اسپغول کا چھلکا رات کو سوتے وقت ضرور لیں۔
اور
کچھ چیزیں یا تو بالکل ختم کریں یا بہت ہی کم کر دیں۔ جن میں شامل ہیں وہ اشیاء جن
میں چینی شا مل ہوتی ہے مثلا بیکری کے تمام ایٹمز، چائے،مشروبات، کیک،تمام کولڈ
ڈرنکس، آئسکریم،مٹھیائیاں، بسکٹ، جوسز،
چاکلیٹ، جملہ فاسٹ فوڈ جنک فوڈ، برگرز، پیزے،
شوارمے۔ سموسے،حلوہ پوری، فنگر چپس، آلو،
مٹر، شکرقندی، اسنیکس، چپس،
سوڈا، فروٹ چاٹ، زیادہ میٹھے پھل۔پاپ کار ن ۔ کھیر، کسٹرد یا
کوئی اور سویٹ ڈش۔ میٹھا پان۔
دراصل
یہ سب کاربوہائیڈریٹس سے بھرے ہوتے ہیں جو بنیادی وجہ ہے وزن کے بڑھنے اور
شوگرکا۔جبکہ سبزیوں گرین سلاد میں کاربوہائیڈریٹس پانی کے بعد سب سے کم ہوتے ہیں
اور ان میں بے شمار وٹامنز اور منرلز بھی ہوتے ہیں جو کہ اچھی صحت کے لیے لازم ہیں۔
ناشہ
بھرپور ہو۔ لنچ ناشے سے کم ہو اور کوشش کریں کہ ڈنر نہ کریں یا بالکل مختصر کریں۔
واک جتنی بڑھا سکتے ہیں بڑھائیں۔کچھ چیزیں کھانا پینا شروع کر دیں یہ نہ صرف وزن
کم کرنے میں مدد کریں گی بلکہ بہت ساری بیماریوں سے بھی محفوظ رکھیں گی۔ سونف،دارچینی۔
زیرہ۔ہلدی لیکن گھر کی بنی ہوی دودھ کے ساتھ اس میں کالی مرچ بھی ڈال دینا۔ ادرک،لہسن،لیموں۔نیم۔
سرکہ، دہی، اجوائن،
کلونجی،اچار، بغیر چینی کے گرین ٹی میں دارچینی اور لیموں کے ساتھ۔ میتھی
دانے کا پوڈر (چھوٹی میتھی)،دو لونگ ۔ لیکن یہ سب قدرتی حالت میں ہوں۔ سالن میں
پکانے کے بعد انکی افادیت یا تو کم ہو جاتی ہے یا ختم۔زیادہ تر اشیاء گرم مصالوں میں
ہوتیں ہیں انکو رات بھر پانی میں بھگو دیں اور صبح خالی پیٹ ان کا پانی پی لیں۔
اگر سب ساتھ نگل سکتے ہیں تو بہت اچھا ہے۔ نہیں تو پانی ہی کافی ہوگا۔
فاسٹنگ
سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔کوشش کریں کم از کم روزانہ بارہ گھنٹوں کا ریسٹ دیں معدے
کو۔ پانی یا گرین ٹی کے علاوہ اور کچھ نہ کھائیں پئیں۔مختصر کلوریز کی سپلائی کم
کریں اور استعمال بڑھائیں۔جمع نہ کریں۔یعنی روٹی، چاول، چینی وغیرہ کو انتہائی سطح تک کم کریں اور کچی
سبزیاں یعنی سلاد زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ صرف چھ ماہ تک پوری ایماندار ی سے
کر یں اور دیکھیں کتنا فرق پڑھتا ہے وزن میں۔
اگر
صرف روزانہ کے کھانے سے صرف تین چپاتیاں اور چائے کم کر دی جائیں،سافٹ ڈرنکس،
جوسز، بیکری کے ایٹم اور دیگر کاربوہائیڈریٹس والی اشیاء نکال دی جائیں اور ہفتے میں
پانچ دن تیس سے چالیس منٹ کی واک کی جائے تو ایک سال میں دس سے بارہ کلو چربی کم
ہو جائے گی اور ان بیماریوں سے بھی بچ سکتے ہیں جن کی ہم پرورش کر رہے ہوتے ہیں
مستقبل کے لیے۔
یہی درست
طریقہ ہے وزن کم کرنے اور شوگر کو ریورس کرنے کا۔ اسکے علاوہ باقی سب یا تو شارٹ
کٹس ہیں یا پاپی پیٹ کے لیے غلط بیانیاں۔میں نے خود اسی پلان پر عمل کیا۔ جس سے نہ
صرف پندرہ کلو وزن کم ہوا بلکہ شوگر جیسی موزی مرض سے بھی اللہ تعالیٰ نے نجات دی۔اسی
کے بعد میں نے اپنے دیگر بہن بھائیوں
بزرگوں کو بھی سیکھانا شروع کیاہے۔
متوازن
کھائیں۔صحتمند اور خوشحال زندگی کے لیے۔
Comments
Post a Comment