How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -2) | Diet And Lifestyle Before Diabetic | Ziyabtas Se Pehle Ki Khurak Aur Tars Zandgi | ذیابیطس سے پہلے کی خوراک اور طرز زندگی
ڈائبیٹس سے پہلے کی ڈائیٹ اور لائف سٹائل
اس سے پہلے تفصیل سے لکھوں کہ شوگر کوکیسے ریورس کیا ضروری ہے بتانا کہ مجھے شوگر ہوئی کیوں تھی تاکہ آپ بھی اپنا تجزیہ کر سکیں کہ آپ بھی وہی کچھ تو نہیں کر رہے ہیں جو میں کر رہا تھا۔
بنیادی طور پر ڈائبیٹس کی وجہ ہے ہماراکھانا (ڈائیٹ) اور طرز زندگی( لائف سٹائل)۔ لہذا ان کے مطلق ہی میں اپنے بارے میں بتاتا ہوں۔
سب کی طرح بچپن سے ہی ناشتے میں چائے پراٹھے رہے۔ البتہ بعد میں انڈا بھی شامل ہو گیا تھا۔👈
لنچ آفس میں ہوتا تھا ۔90پرسنٹ بریانی ہی ہوتی تھی ۔ کبھی کھبار سالن چپاتی یا بسکٹ اور چائے۔👈
👈ڈنر میں بھی زیادہ تر کوئٹہ ہوٹل والوں کے چائے پراٹھے ۔ یا کبھی کھبار فروٹ اُ ن میں بھی اکثر کیلے ہی ہوتے تھے اور موسمی پھل ۔ کبھی کھبار رات کو کھیرے بھی ہو تے تھے پیٹ کی جلن دور کرنے کے لیے۔
👈 چونکہ مجھے قبض تھی اس لیے رات سونے سے پہلے دودھ کے ایک گلاس میں دو چمچے اسپغول ضرور لیتا تھا بلا ناغہ۔
دن میں کم از کم چار کپ چائے ضرور ہوتی تھی ۔ 👈
ہفتے میں چھ دن فل ٹائم جاب تھی اور اب بھی ہے لہذا اتوار کو فل ٹائم ریسٹ ہوتی تھی۔👈
👈آفس آنے جانے کے علاوہ اور کوئی فزیکل ایکٹیویٹی نہیں تھی۔ نہ کوئی سپورٹس، نہ جم، نہ واک اور نہ کوئی ایکسر سائز۔
👈مہینے میں دو تین بار دفتر کے ساتھی ملکر ریفریشمنٹ وغیرہ کرتے تھے جن میں سموسے، پکوڑے ،فنگر چپس ساتھ میں لڈ ڈرنک ہوتیں تھیں۔ اسکے علاوہ کچھ خاص شامل نہیں ہوتا تھا میرے کھانوں میں ۔
👈مجھے شدید تیزابیت رہتی تھی اس سے رائزک بھی میں غذا کی طرح ہی لیتا تھا۔ ڈسپرین ، پیناڈول ایکسٹرا اور رائزک کے ڈبے خریدتاتھا۔تھکاوٹ دور کرنے کا بھی میرے پاس ایک ہی طریقہ تھا کیل سی1000اورسی ای سی 1000دن میں ایک بار تو ضرور ہوتی تھی کبھی کھبار دو ساشے یا ٹیبلیٹس بھی لینی پڑتی تھیں۔یہ بھی تھوک کے حساب سے لیتا تھا۔ اسکے ساتھ انرجی ڈرنکس (اسٹینگ)۔پورارمضان افطار کے بعد اسٹینگ لینا مجبوری بن گیا تھا۔
👈پانی ایک عام آدمی سے کم از کم ڈبل پیتا تھا معدے کی تیزابیت کی وجہ سے ۔
👈اسکے علاوہ پندرہ سال پہلے معدے کاالسر ہو گیا تھا تو پہلی با ادرک کا استعمال کیا تھا پھر کرتا رہا البتہ اس میں لہسن اور لیموں بھی شامل کر دیا تھا۔ روزانہ تو نہیں ہوتا تھا لیکن اکثر انکو کریش کرکے انکی ڈرنک بناکر پیتا تھا۔
👈اسکے علاوہ تو کچھ اور خاص نہیں ہوتا تھا ماسوائے کمر کے درد کی ادویات کے۔البتہ ڈاکٹر کے پاس ہر ماہ تین چار بار ضرور جانا پڑتاتھا وجوہات میں سرے فہرست تھا سر درد،انتہائی جسمانی کمزوری اور دردیں ، کمر کی تکلیف اور سینے میں جلن اور درد جو ہاتھ تک جاتا تھا لہر کی شکل میں۔ایسا لگتا تھاکہ ہارٹ اٹیک ہونے والا ہے۔ اس کے لیے دو بارای سی جی بھی کر وائی تھی لیکن دل کی کوئی بیماری نہیں تھی۔
👈تیزابیت ، گیس ،کھٹی ڈاکاریں اور سینے میں جلن کی ادویات میں سے شاہد ہی کوئی دوائی ہو جو میں نے استعمال نہیں کی ہو۔ تمام برانڈز کے سیرپ، چوسنے و الی ٹیبلٹس، کارمینا سے لیکر حکیموں کی پڑیوں ، چورن، دیسی ٹوٹکے ، کچھ بھی نہیں چھوڑا میں نے۔
👈میٹھے اور کولڈ ڈرنکس کا زیادہ شوقین نہیں رہاالبتہ چائے ہمیشہ سے ہی میری کمزوری رہی ہے اور اب بھی ہے۔
👈دہائیوں تک اتنی زیادہ ادویات خاص کر پین کلر (پیناڈول وغیرہ) استعمال کرنے کے بعد بھی میرے گردے خراب نہیں
ہوئے نہ کوئی پتھری بنی، میڈیکل سائنس کے لیے سمجھنا مشکل ہے ۔ شاید زیادہ پانی پینے کی وجہ سے بچت ہوئی ہے جس نے
کیلشیم کو جمنے نہیں دیا ۔ واللہ اعلم۔
اس ڈائیٹ اور لائف سٹائل کو دیکھ کر اب محسوس ہوتا ہے کہ مجھے شوگر پندرہ بیس سال پہلے ہو جانی چاہیے تھی۔ اگر نہیں
ہوئی تو وجہ ہو سکتی ہے کہ بریانی کے علاوہ خوراک کی مقدار زیادہ نہیں ہوتی تھی۔ ادرک لہسن اور لیموں کا کچھا استعمال ،اسپغول کا چھلکا اور کھیرے کا استعمال بھی اسکی وجہ بنا ۔ واللہ اعلم۔
اب صحت یاب ہونے کے بعد سوچتا ہوں کہ مجھے شوگر بیس سال پہلے ہی ہو جاتی تو اچھا تھا۔ بیس سال تک بیماریاں اور ان پر ہونے والے اخراجات برداشت کرتا رہا شاید نہ کرتا ۔ برحال اللہ تعالیٰ کی مصلحتوں کو کون سمجھ سکتا ہے۔
ویسے آپ سب لوگوں کی خوراکیں اور طرز زندگی کیا مجھ سے زیادہ مختلف ہوتے ہیں؟ میں بریانی زیادہ کھاتا تھا جبکہ آپ روٹی چپاتی سالن زیادہ کھاتے ہیں ۔اسکے علاوہ کچھ خاص فرق نہیں ہے۔
انشاء اللہ اگلے بلاگ سے شروع کروں گا تفصیل سے بتانا کہ میں نے کیسے شوگر ریورس کی۔کتنا دقت لگا اور کن کن مشکلات سے گزرا۔تاکہ آپ کے سامنے ایک مکمل ہسٹری ہو، مکمل طریقہ کار ہو کہ ڈاکٹروں حکمیوں اور ادویات کے بغیر صرف خوراک اور روزمرہ کی مضروفیات کو مناسب طریقے سے کیسے ایڈجسٹ کر کے سو فیصد قدرتی طریقے سے کیسے شوگر کو ریورس کیا جاتا ہے۔جونہ صرف انتہائی صحت مند اور بے ضر ہے کوئی سائیڈ افیکٹس نہیں ہیں بلکہ ساتھ ساتھ مفت بھی۔ اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے کسی کو۔
ا للہ حافظ
حسین سدوزئی
کراچی
Comments
Post a Comment