How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -4) | خوراک غذا اور شوگر | Foods and Sugar Contents | Carbs Proteins Fats | What is Sugar Diabetes | Where glucose come from in blood
ہماری غذا کے اہم اجزاء
میں نے گذشہ بلاگ میں اپنی ڈائیٹ تفصیل سے بتائی تھی جس کی وجہ سے شوگر ریورس ہوئی ہے۔شوگر کے لیے جو ڈائیٹ ہے اس میں کیا حکمت ہوتی ہے کیا سائنس ہوتی ہے آگے آنے والے سارے بلاگ تقریباً اسی پر ہونگے۔ کیونکہ شوگر خوراک سے ہی شروع ہوتی ہے اور خوراک سے ہی ٹھیک ہوتی ہے اسکے علاوہ اور کوئی طریقہ کار نہیں ہے زندگی میں اس سے نجات کا۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ شوگر ہے اصل میں کیا؟
خون میں جب گلوکوز کی مقدار ایک حد سے زیادہ ہو جاتی ہے تو اسے کہتے ہیں شوگر ہو گئی ہے۔ یعنی ڈائبیٹس۔ ذیابیطس۔
خون میں گلوز کی زیادتی بھی انتہائی نقضاندہ ہے جس سے مزید بیماریاں نکلتی ہیں اور کمی بھی انتہائی خطرے ناک اورجان لیوا ہوتی ہے جو منٹوں گھنٹوں میں انسان کو مار دیتی ہے۔
دوسرا یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خون میں گلوکوز آتا کہاں سے ہے ؟
خون میں گلوکوز آتا ہے ہمارے کھانے پینے سے۔
یا پھر جگر سے لیکن یہ صرف بوقت ضرورت ہی ہوتا ہے۔ عام حالات میں نہیں۔اور اس سے خو ن میں شوگر لیول بھی زیادہ نہیں بڑھتا۔
لہذا سب سے ضروری ہے کہ ایسی غذاوں کا انتخاب کیا جائے جن سے خون میں گلوکوز کی سطح زیادہ بلند نہ ہو۔اور ایسی غذائیں ہوں جو آہستہ آہستہ گلوکوز میں تبدیل ہوں۔
دوسری بات جو سمجھنی ضروری ہے کہ جو گلوکوز خون میں شامل ہوجاتا ہے استعمال ہو جائے ۔ جمع نہ ہو جسم میں کہیں بھی۔
بس اسی حکمت اسی سائنس سمجھنے میں مجھے ذاتی طور پر کم از کم چار سال لگے۔اس کے علاوہ اور کوئی دوائی کوئی طریقہ نہیں ہے شوگر کے علاج کا۔اور نہ کوئی ڈاکٹر نہ حکیم اس کا علاج کر سکتا ہے کیونکہ کھانا پینا تو مریض نے ہی ہوتا ہے۔
کھانوں میں غذا کے تین اہم اجزاء ہیں
کاربو ہائیڈریٹس (کاربز) ، پروٹین اور فیٹس
کاربو ہائیڈریٹس : ان کا بنیادی کام ہے جسم کو جلدازجلدگلوکوز مہیا کرنا۔کاربو ہائیڈریٹس کھانے کے بعدکاربو ہائیڈریٹس جلدگلوکوز میں تبدیل ہوجاتے ہیں جس سے جسم اپنی 65% تک انرجی حاصل کرتا ہے ۔یہ پانی میں بالکل نہیں ہوتے ہیں اورسب سے زیادہ اجناس میں زیادہ ہوتے ہیں ۔یہ دو طرح کے ہو تے ہیں سمپل اور کمپلکس۔
سمپل کاربو ہائیڈریٹس ۔ یہ توانائی حاصل کرنے کا تیز ترین ذریعہ ہیں ۔ یہ جلد ہضم ہو کر خون میں شامل ہو جاتے ۔ چینی اور شہد سمپل کاربز ہیں۔ مشروبات ،جوسس ،سافٹ ڈرنکس، انرجی ڈرنکس، آئس کریم ،کیک وغیرمیں سمپل کاربز ہی ہوتے ہیں اسکے علاوہ زیادہ میٹھے پھل جیسے انگور، آم، تربوز ، زیادہ پکے ہوئے کیلوں میں بھی ہوتے ہیں لیکن فائبر کی وجہ سے زیادہ نقضاندہ نہیں ہوتے جتنے پروسیسڈ فوڈز ہیں ۔
کمپلکس کاربو ہائیڈریٹس: یہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں اور دیر سے گلوکوز میں تبدیل ہوتے ہیں ۔ نشاستہ دار اجناس مثلاًگندم ،جو مکئی ،چاول ، آلو ، مٹر ، شکرقندی میں زیادہ ہوتے ہیں ۔ سبزیوں دالوں چنوں میں بھی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ یہ کھانے کے آدھے گھنٹے کے بعد سے لیکر دو گھنٹوں کے دوران گلوز میں تبدیل ہو کر خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے کھانا کھانے کے دو گھنٹوں کے بعد شوگر کا لیول بلند ترین ہوتا ہے۔ زیادہ فائبر والی غذائیں زیادہ وقت لیتی ہیں گلوکوز میں تبدیل ہونے میں ۔ اسی لیے غذائی لحاظ سے میدے یا سفید فائن آٹے کے بجائے چکی کالال آٹا زیادہ اچھا ہوتا ہے جس میں چھلکے یعنی فائبرز بھی ہوتے ہیں ۔
نوٹ: ۔جسم کے لیے چینی بھی کاربو ہائیڈریٹس ہے اور گندم اور چاول بھی کاربو ہائیڈریٹس ہی ہیں جن سے جسم توانائی حاصل کرتا ہے ۔ انکا میٹھا یاپھیکاہو نا جسم کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ذائقے کا تعلق صرف زبان کی حد تک ہی ہے۔ البتہ انکا سمپل یا کمپلکس ہوناجسم کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔اسی لیے دنیا بھر کے ڈاکٹر شوگر کے مریضوں کو جہاں میٹھا یعنی چینی اور اس سے بنی ہوئی خوراک کو استعمال کر نے سے منع کرتے ہیں تو وہیں ساتھ ہی گندم اورچاول کے استعمال کو بھی کم کرنے کا کہتے ہیں۔ یہی وہ اہم ترین نقظہ ہے جو اگر شوگر کے مریض سمجھ جائیں تو شوگر کو بہت اچھی طرح سےہینڈل کر سکتے ہیں ۔
پروٹین :۔ یہ گوشت مرغی ، مچھلی، انڈے، دالیں،چنے، مٹر، لوبیا، خشک میوہ جات اور ڈیری مصنوعات میں زیادہ ہوتے ہیں ۔یہ ہضم ہونے میں چھ گھنٹے لیتے ہیں۔ ان کا بنیادی کام جسم بنانا ہوتاہے عضلات اور دیگر ٹشوز بنانا ان کی مرمت کرنا ،جلد، ناخن بنانا ۔ اسکے علاوہ اینزائمز بناتا ہے جن کے ذریع جسم کے تمام افعال کام کرتے ہیں کیونکہ تمام کیمیکل ری ایکشن اینزائمز کے ذریع ہوتے ہیں ۔ بہت سارے ہارمونز اوراینٹی باڈیز بناتاہے ۔اور ضرورت پڑنے پرجسم ان سے زیادہ سے زیادہ35% تک انرجی حاصل کرتا ہے ۔ پروٹین کھانے سے براہ راست شوگر لیول نہیں بڑھتا ہے البتہ بوقت ضرورت جگر اس سے گلوکوز بنا تا ہے۔
فیٹس: ۔ زیادہ تر دودھ ،مکھن ،دہی، بیجوں،تیلوں سے حاصل ہوتے ہیں اور جسم کے لیے انرجی کا سب سے اچھا ذریعہ ہیں کیونکہ یہ انرجی کے لیے پہلے گلوکوز میں تبدیل نہیں ہوتے اس لیے ان سے خون میں شوگر نہیں بڑھتی ۔صرف بوقت ضرورت جگر اس سے گلوکوز بنا تا ہے۔جسم اپنی زیادہ سے زیادہ 35% تک اپنی انرجی ان سے حاصل کر سکتا ہے ۔ یہ ہضم ہونے میں آٹھ گھنٹے لیتے ہیں۔ یہ کو لیسٹر و ل بناتے ہیں جو اعضاء کی حفاظت اور خلیوں کی نشونما کرتے ہیں اور کچھ وٹامنز کے ہضم کر نے میں مددگار ہوتے ہیں۔ یہ کچھ اہم ہارمونز بھی بناتے ہیں ۔ زیادہ تر پروٹین اور فیٹس ایک ساتھ ہوتے ہیں غذاوں میں ۔مثلا ً دو دھ ۔خشک میوہ جات ۔ تیل۔ انڈے۔مچھلی میں۔
Comments
Post a Comment