رمضان - جسمانی بیماریوں سے شفا حاصل کرنے کا مہینہ

 اللہ تعالیٰ آپ سب کو رمضان کی بے شمار رحمتوں اور برکتوں سے نوازے۔

رمضان نہ صرف روحانی دولت سمیٹنے کا مہینہ ہے بلکہ یہ جسمانی بیماریوں سے شفا حاصل کرنے کا بہترین موقع بھی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہم لاعلمی، بے صبری، اور زبان کے ذائقے کی خاطر ایسی غیر صحت بخش غذا کھاتے ہیں اور حد سے زیادہ کھا لیتے ہیں                               Over Load ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں فیٹی لیور، شوگر، کولیسٹرول، بدہضمی، بلڈ پریشر اور دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

روزے کے دوران جسم اضافی چربی کو توانائی کے طور پر استعمال کرتا ہے جس سے وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے میٹابولزم بہتر ہوتا ہے معدہ اور آنتوں کو آرام ملتا ہے آنتوں کی صفائی ہوتی ہے قبض بدہضمی تیزابیت جیسے ہاضمے کے مسائل کم ہو جاتے ہیں۔انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے  بلڈ شوگر لیول متوازن رہتا ہے جو شوگر کے مریضوں کے لیے مفید ہے۔کم چکنائی اور زیادہ فائبر والی خوراک دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے کولیسٹرول کی سطح کم ہو تی ہےاور بلڈ پریشر بھی کنٹرول میں رہتا ہے۔

روزہ رکھنے سے جسم ڈیٹوکس ہوتا ہے کیونکہ کھانے میں وقفہ دینے سےجسم کے زہریلے مادے بہتر طریقے سے خارج ہوتے ہیں جس سے جگر اور گردے کی صحت  بہتر ہوتی ہے۔ ہمارا جسم روزمرہ کی خوراک، ماحولیاتی آلودگی اور مختلف کیمیکل عناصر کے ذریعے کئی قسم کے زہریلے مادے (ٹاکسن) جذب کرتا ہے۔ ٹاکسن جسم میں زیادہ مقدار میں جمع ہونے سے صحت کے مسائل پیداہوتے ہیں جیسے تھکاوٹ، بدہضمی، جلد کی خرابیاں اور مدافعتی نظام کی کمزوری وغیرہ وغیرہ۔جگر یہ زہریلے مادے فلٹر کرکے انہیں خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب روزہ رکھا جاتا ہے تو جگر کو زیادہ بوجھ برداشت نہیں کرنا پڑتاہے۔ اس دوران جگر اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ چربی کو توڑ کر توانائی میں تبدیل کرتا ہے اور نقصان دہ کیمیکلز کو جسم سے خارج کرنے میں مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے۔

گردے خون کو فلٹر کرکے زہریلے مادے پیشاب کے ذریعے جسم سے باہر نکالتے ہیں۔ روزےکے دوران گردوں کو زیادہ مؤثر طریقے سے فلٹریشن کرنے کا موقع ملتا ہے۔ جس سے پیشاب کے ذریعے فاضل مادے زیادہ بہتر انداز میں جسم سے خارج ہوتے ہیں اور گردوں کی صحت بہتررہتی ہے۔جسم چربی کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے تو پسینے کے ذریعے بھی زہریلے مادے خارج ہونے لگتے ہیں۔ اسی طرح سانس کے ذریعے بھی کچھ زہریلے مادے جسم سے نکل جاتے ہیں جو جسم کے ) عمل میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔اس طرح روزہ رکھنے سے جسم  زہریلے مادوں سے پاک ہو جاتا ہے ۔ ٹاکسن قدرتی طور پر خارج ہوتے ہیں جس سے جگر، گردے، ہاضمہ اور خلیاتی سطح پر صحت بہتر ہوتی ہے۔

روزے کے دوران جسم خلیاتی سطح پر اپنی مرمت کا عمل شروع کر دیتا ہے جسے آٹو فجی کہتے ہیں  یہ ایک قدرتی عمل ہے جس میں جسم خودبخودپرانے اور خراب خلیات کو ختم کرکے نئے صحت مند خلیات بناتا ہے جس سے مجموعی صحت میں بہتری آتی ہے اور بیماریوں سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے حتیٰ کہ کینسر تک۔

اگر روزہ صحیح طریقے سے رکھا جائے یعنی سحری اور افطار میں صحت مند اور متوازن خوراک لی جائے تو اس کا جسم پر نہایت مثبت اثر پڑتا ہے اور کئی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہو جاتا ہے۔سحری اور افطار میں کیا کیا کھانا پینا چاہیے پہلے ہی تفصیل سے لکھ چکا ہوں اور اسکا لنک بھی شیئر کر رہا ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ حاصل کر سکیں۔

https://healthbasicsinsights.blogspot.com/2025/02/ramzan-diet-plan.html

Comments

Popular posts from this blog

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -2) | Diet And Lifestyle Before Diabetic | Ziyabtas Se Pehle Ki Khurak Aur Tars Zandgi | ذیابیطس سے پہلے کی خوراک اور طرز زندگی

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -4) | خوراک غذا اور شوگر | Foods and Sugar Contents | Carbs Proteins Fats | What is Sugar Diabetes | Where glucose come from in blood

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -1) | Min Ne Ziyabtas Ko Kise Reverse Kiya | میں نے شوگر کیسے ریورس کی