RAMZAN DIET PLAN | رمضان ڈائیٹ پلان | روزوں میں کیا کھائیں کیا نہ کھائیں
رمضان ڈائیٹ پلان :۔
روزوں میں کھانے پینے کے حوالے سے کئی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
انٹرنیٹ پر پہلے ہی ہزاروں ڈائیٹ پلانز دستیاب ہیں اور ہر روز نئے پلانز بھی اپلوڈ ہوتے رہتے ہیں، اس لیے کمی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام پلانز ہر فرد کے لیے موزوں بھی ہیں؟ اس حوالے سے بہتر یہی ہے کہ ہر شخص اپنی سہولت اور استعدادکے مطابق ایک گائیڈ لائن میں رہتے ہوئے اپنا ڈائیٹ پلان خود ترتیب دے۔
میں ذاتی طور پر کوئی مخصوص ڈائیٹ پلان دینے کے بجائے آپ کو ایسی راہنمائی فراہم کرتا ہوں جسے رمضان سمیت عام دنوں میں بھی اپنایا جائے تو یقیناً فائدہ مند ثابت ہوگا بالخصوص شوگر اور موٹاپے کے شکار افراد کے لیے۔
افطار میں متوازن خوراک کا انتخاب
رمضان میں سب سے زیادہ اہتمام افطار کا کیا جاتا ہے، جو اکثر کھجور کے بعدپکوڑوں، سموسوں، رولز اور شربت سے بھرپور ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ ترتیب بالکل الٹ ہونی چاہیے۔
افطار کو جتنا سادہ اور مختصر رکھا جائے، اتنا ہی بہتر ہے تاکہ معدے پر اچانک دباؤ نہ پڑے اور اضافی تیزابیت پیدا نہ ہو۔ کھجور اور سادہ پانی سے افطار کرنے کے بعد بہتر ہے کہ پکوڑوں،رولز، پابڑوں، سموسوں،آلو کی چپس اور دیگر تلی ہوئی اشیاء کی جگہ چنا چاٹ کا استعمال کریں۔ یہ صحت بخش بھی ہے اور مزیدار بھی۔ اگر چاہیں تو اس میں دہی بھی شامل کر سکتے ہیں جو کہ دہی بھلے جیسا ذائقہ دے گا۔مزید اس میں پکوڑے بھی تھوڑے بہت ڈال سکتے ہیں۔مزید مزیدار بھی بنا سکتے ہیں اپنی سہولت اور ذائقے کے مطابق۔
کچھ لوگ حیران ہوں گے کہ میں پکوڑوں کی اجازت دے رہا ہوں لیکن سموسے اور رولز سے منع کر رہا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سموسے اور رولز کی پٹی خالص میدے سے بنی ہوتی ہے، جس میں ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ پھر ان میں ابلے ہوئے آلو بھرے جاتے ہیں، جن میں پہلے ہی کاربوہائیڈریٹس زیادہ ہوتے ہیں، اور ابلنے کے بعد یہ مزید بڑھ جاتے ہیں (یاد رہے کہ ریفائنڈکاربوہائیڈریٹس شوگر کو فوری طور پربڑھاتے ہیں)۔ تیل میں تلنے سے ان میں چکنائی کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے، جو انھیں مزید نقصان دہ بنا دیتی ہے۔اس کے مقابلے میں، پکوڑے بیسن سے بنتے ہیں اور ان میں آلو کم یا نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ اس لیے سموسے اور رولز کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ان سے پرہیز کرنا بہتر ہوگا۔
افطار میں صحت بخش متبادل
فروٹ کا استعمال کریں لیکن زیادہ میٹھے پھلوں سے گریز کریں۔البتہ فروٹ چاٹ استعمال نہ کریں تو زیادہ اچھا ہوگا۔ اگر کریں بھی تو کوشش کریں کہ بغیر کریم والا ہو اور میٹھا بھی نہ ہو۔
جلیبی جیسے میٹھے پکوان رمضان میں عام طور پر استعمال کیے جاتے ہیں جو کہ غیر ضروری ہے۔ خاص طور پر شوگر کے مریضوں اور زیادہ وزن والے افراد کو ان سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔
سموسے،پاپڑ، چپس اور رولز کی جگہ کباب، بوٹی یا فرائیڈ چکن استعمال کریں جو انرجی اور غذائیت کے ساتھ ذائقہ بھی فراہم کریں گے اور خون میں شوگر کی سطح کو بھی نہیں بڑھائیں گے نہ موٹاپے کا باعث بنیں گے۔
بدقسمتی سے جو چیز ہماری صحت کے لیے بہت اہم ہے وہ ہم رمضان میں بالکل ہی نہیں کھاتے ہیں۔ یعنی گرین سلاد۔ سلاد میں موجود منرلز، وٹامنز اور اینزائمز ہمارے جسم کے لیے انتہائی ضروری ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم اکثر پورے مہینے ان سے محروم رہتے ہیں۔افطار میں تو چٹ پٹے پکوان ہی کھائے جاتے ہیں لیکن نمازکے بعد کھانے سے پہلے ضرور کھائیں اچھی مقدار میں۔ یہ جسم میں اہم کیمیکل ری ایکشنز کے لیے لازمی ہوتے ہیں اور ان کی کمی کے باعث غذا سے مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہو پاتے۔ خاص طور پر رمضان کے دوران جب خوراک کا دورانیہ محدود ہوتا ہے سلاد کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا، اسے خوراک کا لازمی حصہ بنائیں اور اس کے استعمال میں ہرگز کمی نہ کریں۔
سلاد میں موجود منرلز، وٹامنز اور اینزائمز ہمارے جسم کے لیے انتہائی ضروری ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم اکثر پورے مہینے ان سے محروم رہتے ہیں۔ یہ اجزاء جسم میں اہم کیمیکل ری ایکشنز کے لیے لازمی ہوتے ہیں، اور ان کی کمی کے باعث ہماری غذا سے مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہو پاتے۔ خاص طور پر رمضان کے دوران، جب خوراک کا دورانیہ محدود ہوتا ہے، سلاد کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا، اسے اپنی روزمرہ کی خوراک کا لازمی حصہ بنائیں اور اس کے استعمال میں ہرگز کمی نہ کریں۔
نماز کے بعد روٹی سالن لیں جو بھی روٹین میں ہو لیکن روٹی چاول کی مقدار زیادہ نہ ہو تاکہ خون میں گلوکوز زیادہ نا بڑھے۔میری تجویز ہے کہ ایک چپاتی سے زائد نہ ہو وہ بھی چکی والے لال آٹے یا ملٹی گرینز آٹے کی۔سفید فائن آٹے سے بالکل پرہیز کریں۔
سحری کا متوازن پلان
لوگ افطار میں تو بہت اہتمام کرتے ہیں، لیکن سحری کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں سحری زیادہ اہم ہے۔
عام طور پر سحری میں پراٹھے کھائے جاتے ہیں اور کچھ لوگ دہی اس لیے استعمال کرتے ہیں کہ دن میں پیاس نہ لگے۔ دہی کا استعمال واقعی مفید ہے لیکن پیاس نہ لگنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس میں موجود صحت مند چکنائیاں دیر سے ہضم ہوتی ہیں اور جسم کو آہستہ آہستہ توانائی فراہم کرتی ہیں۔کاربوہائیڈریٹس فوری توانائی تو دیتے ہیں، لیکن یہ جلد ختم ہو جاتی ہے جس سے دوبارہ بھوک لگنے لگتی ہے۔ اس کے برعکس چکنائی دیر تک پیٹ بھرا رکھنے میں مدد دیتی ہے، جو روزے کے دوران بے حد فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
انڈوں کا استعمال بھی رمضان میں کم کر دیا جاتا ہے جو کہ غلط ہے۔ انڈے پروٹین اور صحت بخش چکنائی فراہم کرتے ہیں۔ سحری میں کھانے سے روزے کے دوران دیر تک توانائی برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔دیر سے ہضم ہوتے ہیں ا ور جلد بھوک لگنے کا احساس بھی نہیں ہونے دیتے ہیں۔ پٹھوں کو بھی مضبوط رکھنے میں مدد یتے ہیں۔دماغی کارگردگی اور یاداشت کو بہتر رکھتے ہیں جس روزے کے دوران بھی ذہنی تھکاوٹ کم محسوس ہوتی ہے۔
کاربوہائیڈریٹس جلد ہضم ہو جاتے ہیں جس سے جسم کو فوری اور ضرورت سے زیادہ تونائی ملتی ہے لیکن جلد کم بھی ہو جاتی ہے لہذانسان کو دوبارہ کھانے کی طلب ہوتی ہے اس کے برعکس فیٹس دیر سے ہضم ہوتے ہیں دیر تک پیٹ بھرا رکھنے میں مدد کرتے ہیں جس سے بھوک نہیں لگتی ہے جوکہ رمضان میں بہت اہم ہے۔یہ جسم کو آہستہ آہستہ توانائی فراہم کرتے ہیں جس سے کمزوری بھی محسوس نہیں ہوتی ہے۔اس لیے سحری میں ایسے کھانوں کھائیں جن میں قدرتی فیٹس زیادہ ہوں نہ کہ کاربو ہائیڈریٹس۔مثلاً دودھ، دہی مکھن گھی پنیراور ڈرائی فروٹ۔روٹی، پراٹھے اور چاول بلڈ شوگر کو تیزی سے بڑھاتے ہیں اور جلد ہضم ہو کر دوبارہ بھوک کا احساس دلاتے ہیں جس سے روزہ مشکل ہو جاتاہے اس لیے میری تجویز ہے کہ ان کی مقدار کو کم سے کم رکھیں۔اگر یورک ایسڈ اور تیزابیت کا مسئلہ نہ ہو تو گوشت اور کباب بھی اچھے اپشنزہیں فیٹس کے ساتھ۔
اکثریت سحری کے آخر میں میں پھنیاں کھاتے ہیں۔ میں اب تک نہیں سمجھ سکہ کے لوگ یہ کیوں کھاتے ہیں۔ شاید فیٹس کے لیے۔لیکن یہ تو میدے اور ویجیٹیبل گھی سے بنی ہوتیں ہیں۔ بہتر ہے ان سے پرہیز کیا جائے۔
اگر آپ اس طرح کی غذائیں اپنائیں تو نہ صرف رمضان میں بلکہ عام دنوں میں بھی بہت صحت مند متوازن اور خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔ ان سے بلڈ شوگر قابو میں رہتی ہے،سپائک بھی نہیں آتا اور جسم کو پورادن آہستہ آہستہ توانائی بھی ملتی رہتی ہے جس سے کمزوری بھی نہیں ہوتی ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے ہوتا ہے شوگر کے مریضوں کو۔
Comments
Post a Comment