Importance of Balance Diet | What Is Healthy Diet | Why Balance Diet Is Important For Poor And Middle Class People

  بیلنس ڈائیٹ – غریب اور مڈل کلاس کے لیے بچت اور صحت کا راز

اکثر لوگہ سمجھتے ہیں کہ بیلنس ڈائیٹ صرف امیروں کے چونچلے، عیاشی  اور لائف سٹائل ہے جو انہوں نے مغربی معاشرے سے اپنائی ہے۔ غریب آدمی کے لیے یہ ناممکن چیز ہے۔ ہم تو دو وقت کی روٹی مشکل سے کماتے ہیں، بیلنس ڈائیٹ کہاں سے کریں؟  جو ملتا ہے کھا لیتے ہیں۔

لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بیلنس ڈائیٹ امیروں سے زیادہ غریبوں اور مڈل کلاس طبقے کے لیے ضروری ہے۔ کیونکہ امیروں کے پاس وسائل ہوتے ہیں، مہنگا علاج کروا سکتے ہیں، ریگولر میڈیکل   چیک اپ بھی کراتے رہتے ہیں، جم، کلب اور ایکسرسائز کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں چاہے فیشن کے طور پر یا صحت کی دیکھ بھال کے لیے۔ خورا ک کا بھی خیال رکھتے ہیں، چاہے سوسائٹی میں اچھا دکھنے کے لیے ہی سہی، لیکن کچھ نہ کچھ احتیاط ضرور کرتے ہیں۔

لیکن غریب اور مڈل کلاس افراد ایسا نہیں کرتے۔ یہ متوازن غذا، ایکسرسائز، اور صحت کی دیکھ بھال کو غیر ضروری سمجھتے ہیں جو کہ سب سے بڑی غلطی ہے۔ اور نہ ان کے پاس زیادہ بیمار ہونے اور مہنگا علاج کروانے کی گنجائش ہوتی ہے۔

بیلنس ڈائیٹ کیوں ضروری ہے؟ – غربت، صحت اور بچت کا گہرا تعلق کیسے ہے

متوازن غذا کا مطلب مہنگا کھانا نہیں بلکہ صحیح اور متوازن مقدار میں غذائی اجزاء کا استعمال ہے جو انتہائی سادہ اور سستی خوراک سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

صحت مند اور متوازن غذا نہ صرف بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے بلکہ مہنگے علاج اور دوائیوں کے اخراجات سے بھی بچاتی ہے۔ ایک بار بیماری لگ جائے تو ڈاکٹروں، دوائیوں، ٹیسٹ، اسپتال اور دیگر اخراجات آسمان کو چھونے لگتے ہیں۔ لوگ بیماری کے باعث مہینوں بستر پر پڑے رہتے ہیں جس سے روزگار متاثر ہوتا ہے اور آمدنی کم ہو جاتی ہے۔ اگر صحت بہتر ہو تو محنت مشقت آسان ہو جاتی ہے مزدور زیادہ کام کر سکتا ہے اور روزمرہ کی زندگی میں دوسروں پر انحصار کم ہو جاتا ہے۔

جب متوازن غذا ہوگی تو دوائیوں اور ڈاکٹروں کی ضرورت ہی کم ہوجاے گی، اور یہی سب سے بڑی بچت ہے۔  اگر صحت مند کھانے کی عادت اپنا لیں تو نہ صرف آپ کم بیمار ہوں گے بلکہ آپ کا جسم زیادہ توانائی اور قوت مدافعت کے ساتھ کام کرے گا۔ غریب طبقے کو اکثر لمبی محنت، مشقت اور جسمانی مزدوری کرنی پڑتی ہے، جس کے لیے طاقتور جسم اور اچھی صحت بہت ضروری ہے۔ غلط خوراک جسم کو کمزور کرتی ہے، جس سے ہڈیوں، جوڑوں، اور پٹھوں کی تکلیف شروع ہو جاتی ہے اور زندگی مزید مشکل بن جاتی ہے۔ اگر کھانے میں بیلنس ہو تو جسم میں توانائی اور اسٹیمنا بہتر ہوتا ہے، کم نیند میں بھی زیادہ فریش محسوس ہوتا ہے اور کام کی رفتار بھی بہتر ہو جاتی ہے۔اگر متوازن غذا کا اصول اپنایا جائے تو زیادہ کھانے کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ جسم کم مقدار میں زیادہ غذائیت حاصل کر تا ہے۔باہر کے غیر صحت بخش کھانوں پر خرچ ہونے والے پیسے بچائے جا سکتے ہیں، اور سادہ، مقوی اور سستی خوراک اپنائی جا سکتی ہے۔ پروسیس شدہ اور جنک فوڈ زیادہ مہنگے ہوتے ہیں اور کم غذائیت فراہم کرتے ہیں، جبکہ سادہ  دال، سبزی، چپاتی، اور دیسی کھانے کم قیمت میں زیادہ فائدہ دیتے ہیں۔

بیماری کا علاج مہنگا ہے، بچاؤ سستا۔ وقت اوربیماری کی تکالیف،مشقت کی بچت الگ۔

بیلنس ڈائیٹ کیسے اپنائی جائے؟  سستا اور آسان طریقہ

سادہ اور سستی غذا اپنائیں – سبزی، دالیں، گندم، جو، مکئی، چاول، اور پھل صحت مند خوراک ہیں، جو مہنگے نہیں ہوتے۔

 چائے اور چینی کم کریں – چینی زیادہ بیماریوں کا باعث بنتی ہے، اور چائے زیادہ پینے سے معدے اور ہڈیوں کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔

 بازاری کھانوں سے پرہیز کریں – باہر کا کھانا مہنگا بھی ہوتا ہے اور صحت کے لیے نقصان دہ بھی، جبکہ گھر کا کھانا سستا اور صاف ہوتا ہے۔

 پانی زیادہ پئیں – پانی سستا ہے اور ہر بیماری کے لیے سب سے بہترین دوا ہے۔

 کھانے کے ساتھ سلاد اور دہی یا اچار شامل کریں – یہ سستے ہوتے ہیں اور ہاضمہ بہتر کرتے ہیں، جس سے جسم کو زیادہ توانائی ملتی ہے۔

روزانہ تھوڑی ورزش یا جسمانی حرکت کریں – چاہے ہلکی واک ہو یا گھر کے کام، یہ جسم کو مضبوط رکھتی ہے اور بیمار ہونے سے بچاتی ہے۔

صحت مند زندگی، کم اخراجات، زیادہ خوشیاں

 جب صحت اچھی ہوگی تو محنت زیادہ اور آسان ہوگی، روزگار بہتر ہوگا اور دوسروں پر انحصار کم ہوگا۔

 ڈاکٹر، دوائیاں اور میڈیکل ٹیسٹ کی ضرورت کم ہوگی، اور پیسہ بھی بچے گا۔

 خوراک پر اخراجات کم ہو سکتے ہیں کیونکہ اگر سستی اور مقوی غذائیں کھائیں تو زیادہ کھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

درد، تکلیف، اور پریشانیوں میں کمی آئے گی، اور زندگی کا معیار بہتر ہوگا۔

 بیلنس ڈائیٹ امیروں کے چونچلے لائف اسٹائل چوائس نہیں بلکہ ہر کسی کی بنیادی ضرورت ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو علاج کے مہنگے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔  بلکے غریبوں کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔اگر کم قیمت میں صحت مند زندگی پائی جا سکتی ہے تو پھر کیوں نہ اپنا طرزِ زندگی بہتر بنایا جائے؟ کیوں نہ اپنی خوراک پر دھیان دیں، صحت مند زندگی گزاریں اور غیر ضروری بیماریوں سے بچیں۔

بیلنس ڈائیٹ سے بڑھ کر اس وقت ان افراد کے لیے بالخصوص غریب اور مڈل کلاس کے لیے جو علاج کے مہنگے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے کوئی اور نعمت نہیں ہو سکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -2) | Diet And Lifestyle Before Diabetic | Ziyabtas Se Pehle Ki Khurak Aur Tars Zandgi | ذیابیطس سے پہلے کی خوراک اور طرز زندگی

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -4) | خوراک غذا اور شوگر | Foods and Sugar Contents | Carbs Proteins Fats | What is Sugar Diabetes | Where glucose come from in blood

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -1) | Min Ne Ziyabtas Ko Kise Reverse Kiya | میں نے شوگر کیسے ریورس کی