How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -15)| Why We Get Sick | پم بیمار کیوں ہوتے ہیں
ہم بیمار کیوں ہوتے ہیں
کبھی سوچا آپ نے کی آپ بیمار کیوں ہوتے ہیں۔دنیا میں شاہد ہی کوئی ایسا شخص گزرا ہو جو کھبی نہ کبھی بیمار نہ ہوا ہو۔جن بیماریوں پر ہمارا کنٹرول نہیں ہے ہم کچھ زیادہ نہیں کر سکتے ہیں جیسے پیدائشی بیماریاں۔مثلاً دل میں سوراخ۔ ایسی بیماریاں ہمارا موضوع نہیں ہیں۔ اور وہ بیماریاں جو حادثات کی وجہ سے بھی ہو جاتیں ہیں یہ بھی ہمارا موضوع نہیں ہیں۔اور وہ بیماریاں بھی شامل نہیں ہیں جو موسمی ہوتیں ہے یا کسی وائرس بیکٹریا کی وجہ سے ہو جاتیں ہیں مثلاً ڈینگی بخار، چکن گونیا، اور جس طرح کورونا دنیا بھر میں پھیل گیا تھا ایک وائرس کی وجہ سے۔ البتہ اگر ہمارا ایمنیون سسٹم مضبوط ہو گا تو ہمارا جسم ان سے جلد نمٹ لیتا ہے۔
ہم بات اُن بیماریوں کے مطلق بات کریں گے جن کو خود ہم دعوت دیتے ہیں۔ برسوں اُن کی پرورش کرتے ہیں۔اُن پر محنت کرتے ہیں پیسہ خرچ کرتے ہیں۔یہ پیدا ہوتیں ہیں ہمارے کمفرٹ زون کی وجہ سے۔ ماڈرن لائف سٹائل کی وجہ سے۔ غیر صحت بخش کھانوں کی وجہ سے۔ یہ نہ صرف ہماری زندگی کے معیار کو کم کرتی ہیں بلکہ بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں
گیس اور معدے کے مسائل، معدے میں تیزابیت، قبض اور آنتوں کے مسائل، بدہضمی، پیٹ کے زخم (السر)، وزن کا بڑھنا یا موٹاپا، شوگر ذیابیطس، ہائی یا لو بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی زیادتی، دل کی بیماریاں، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہونا، دل کی شریانوں کا بلاک ہونا (ہارٹ اٹیک کے خطرات)، فیٹی لیور، سوزش، جوڑوں کا درد، کینسر کا خطرہ، جلد کے مسائل، قبل از وقت بڑھاپے کی علامات، دماغی مسائل، ڈپریشن، ذہنی دباؤ، اور یادداشت کی کمی،گردے فیل، جسمانی کمزوری اورٹھکاوٹ۔
کھانا تو صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے۔ خوراک کے بغیر تو زندہ رہنا ممکن ہی نہیں۔ آپ کے ذہن میں بھی یہی کچھ چل رہا ہوگا۔یہ درست ہے کہ خوراک کے بغیر زندہ رہنا نا ممکن ہے۔ لیکن
کون سا کھانا۔ کھانے پینے کا انتخاب
کتنا کھانا۔ مقدار
اور کیسے کھانا۔ آڈر آف میل
اور کب کب کھانا ہے۔
جب کھانے پینے میں ان سب کا خاص خیال رکھیں گے تو یہ خوراک ہمارے جسم کو تونائی دے گی۔ نشونما کرے گی۔مرمت کرے گی۔توہمارا جسم بیماریوں کے خلاف لڑے گا۔ بیمار نہیں ہوگا۔اگر اس کا کوئی خیال حساب کتاب نہیں رکھاانتخاب پر دھیان نہ دیا تو یہ خوراک ہمارے لیے سلو پزائنگ بن جائے گی۔ یہ جسم میں جاکر جسم کے خلاف ہی لڑے گی۔ اسے کمزور کرے گی اسے بیماریوں کا گھر بنا دے گی۔ زندگی کو عذاب بنا دے گی۔
Comments
Post a Comment