4 White Poisons | چار سفید زہر
چار سفید زہر
عالمی ادارہ صحت اور غذائی ماہرین بار بار متنبہ کر چکے ہیں کہ سفید چینی، سفید آٹا ، سفید چاول اور سفید نمک کی زیادتی ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ انھیں چار سفید زہر بھی کہا جاتا ہے۔ اگر ہم اپنی خوراک میں سے ان نقضان دہ اجزاء کو کم سے کم کر کے بہتری لائیں اسے متوازن کریں تو ہم نہ صرف کافی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ ایک صحت مند ،متحرک اور خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔
سفید چینی
سفید چینی کو ''میٹھا زہر'' کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مختلف بیماریوں کی جڑ ہے۔ اس کا زیادہ استعمال موٹاپا، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ سفید چینی کا کوئی غذائی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ صرف کیلوریز فراہم کرتی ہے جو جسم میں چربی بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔
سفید آٹا
سفیدفائن آٹا غذائیت سے خالی غذائی اجزا سے محروم ہوتا ہے۔ یہ ہاضمے کے مسائل، قبض، ذیابیطس اور موٹاپے کا باعث بنتا ہے۔ میدے سے بنی ہوئی غذائیں، ڈبل روٹی، بسکٹ، کیک، پاستے،نوڈلز وغیرہ بھی انتہائی خطرے ناک ہیں جو وزن بڑھانے اور شوگر کا سب بنتے ہیں جن سے قوت مدافعت بھی کمزور ہو تی ہے۔
سفید چاول
سفید چاول دیکھنے میں جتنے اچھے لگتے ہیں صحت کے لیے اُتنا ہی نقضاندہ ہیں۔ان میں غذائیت کی کمی ہوتی ہے۔ ان کا استعمال خون میں شوگر لیول اور وزن بڑھا تا ہے۔
سفید نمک
سفید نمک کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔ زیادہ نمک کھانے سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے جس سے دل اور گردوں کی بیماریاں لاحق ہو تیں ہیں۔ زیادہ نمک جسم میں پانی کو روکتا ہے اور سوجن کا باعث بنتا ہے۔
اگر ہم اپنی خوراک سے ان چار سفید زہروں کو کم کر دیں اور متبادل صحت بخش غذائیں استعمال کریں تو ہم کئی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔
سفید چینی کی جگہ گڑ استعمال کریں۔گڑ اعتدال میں کھانے سے صحت کو کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔
سفید نمک کی جگہ ہمالیائی پنک سالٹ استعمال کریں جس میں 80 سے زائد منرلز ہوتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں۔
سفید آٹے کی بجائے چکی کا لال آٹا یا ملٹی گرین آٹا استعمال کریں۔
سفید چاول کی جگہ براؤن رائس یا دلیہ کھائیں۔
:گڑ اور چینی میں فرق
گڑ غذائیت سے بھرپور صحت بخش اور قدرتی مٹھاس ہے اس میں اہم غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو جسم کو توانائی، مضبوط مدافعتی نظام، بہتر ہاضمہ اور دیگر فوائد فراہم کرتے ہیں جبکہ چینی ریفائنڈ شکل میں ہوتی ہے اسکی تیاری کے دوران تمام اہم معدنیات اور وٹامنز ختم ہو جاتے ہیں۔یہ صرف مٹھاس دیتی ہے لیکن صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
تفصیل سے دیکھتے ہیں کہ گڑ کیوں زیادہ فائدہ مند ہے اور چینی کے کیا نقصانات ہیں۔
غذائی اجزاء
گڑ آئرن، کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم اور فاسفورس جیسے معدنیات سے بھرپور ہوتا ہے جبکہ چینی صرف خالی کیلوریز فراہم کرتی ہے اور کوئی غذائیت نہیں دیتی۔
توانائی کی سطح
چینی فوراً توانائی تو دیتی ہے مگر یہ بلڈ شوگر لیول کو اچانک بڑھا کر پھر تیزی سے گرا دیتی ہے جس سے تھکن اور کمزوری محسوس ہوتی ہے جبکہ گڑ آہستہ آہستہ توانائی فراہم کرتا ہے جو دیرپا رہتی ہے اور جسم کو متوازن رکھتی ہے۔
گڑ کے صحت بخش فوائد
خون کی کمی دور کرتا ہے
گڑ خون کی کمی دور کرتا ہے۔ اس میں قدرتی آئرن موجود ہوتا ہے جو ہیموگلوبن بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔اینیمیا (خون کی کمی) کے شکار افراد کے لیے مفید ہے۔
ہاضمے کے لیے بہترین
قبض کو دور کرنے میں مددگار ہے۔معدے کو بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔
جسم کی ڈیٹوکس (صفائی) کرتا ہے
جگر کی صفائی میں مددگار ہے اور جسم سے زہریلے مادوں کو نکالتا ہے۔خون صاف کرتا ہے اور جلد کو بہتر بناتا ہے۔
مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے
اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور معدنیات جسم کو بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔عام نزلہ، زکام، کھانسی، اور سانس کی بیماریوں میں مفید ہے۔
جوڑوں کے درد میں کمی
اس میں موجود کیلشیم اور میگنیشیم ہڈیوں کو مضبوط بناتے ہیں جس سے جوڑوں کے درد میں آرام ملتا ہے۔
دل کی صحت کے لیے فائدہ مند
گڑ بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھتا ہے کیونکہ اس میں پوٹاشیم اور میگنیشیم موجود ہوتے ہیں۔چینی کے برعکس یہ دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
چینی کے نقصانات
موٹاپے کا سبب
چینی اضافی کیلوریز فراہم کرتی ہے جو وزن بڑھاتی ہے۔
ذیابیطس اور انسولین مزاحمت
چینی کے زیادہ استعمال سے خون میں گلوکوز لیول بڑھ جاتاہے انسولین کی حساسیت کم ہو جاتی ہے جس سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
دانتوں کی خرابی
چینی دانتوں میں کیویٹیز اور کیڑے لگنے کا سبب بن سکتی ہے۔
قوتِ مدافعت پر منفی اثر
چینی سے جسمانی سوزش (انفلامیشن) بڑھتی ہے جو مختلف بیماریوں کی جڑ ہے۔
کیا شوگر کے مریض گڑ کھا سکتے ہیں؟
اگرچہ گڑ چینی کے مقابلے میں بہتر ہے لیکن ہے تو یہ بھی کاربوہائیڈریٹ ہی جو بلڈ شوگر کو بڑھاتا ہے۔لہذاشوگر کے مریضوں کو اس کا استعمال یا تو نہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے یا بہت کم مقدار میں لینے کی تجویز دی جاتی ہے۔
میں پہلے خود اسکا استعمال کرتا تھا لیکن اب بالکل نہیں کرتا ہوں۔
Comments
Post a Comment