How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -16)| Why We Eat Foods | ہم کھانا کیوں کھاتے ہیں

 آپ کھانا کیوں کھاتے ہیں؟؟؟

بھوک مٹانے کے لیے

پیٹ بھرنے کے لیے

زندہ رہنے کے لیے

ذائقے کے لیے

غذائیت کے لیے

روز کا روٹین ورک سجھ کر۔

اس سوال کو اس طرح سے بھی سمجھتے ہیں۔

جسم کو کیسے کھانے کی ضرورت ہے؟؟؟

ذائقے دار کھانے کی

یا

غذائیت والے کھانے کی

آپ نے اکثر سننا ہوگا کہ آج گھر میں بڑا  ذائقے دار کھانا پکا ہے۔ یا کھانا بڑا ذائقے دار تھا۔ یا کھانا بہت اچھا تھا۔ یا فلانے کے ہاتھ میں بڑا ذائقہ ہے۔ یا فلانے ہوٹل ریسٹورینٹ کا کھان بڑا ذائقے دار ہے یا اچھا ہے یا فلانے کی شادی کا کھانا بڑا مزیدار تھا اچھا تھاوغیرہ وغیرہ۔ کھانے پینے کی اس طرح کی تعریفیں تو ہم سب ہی کرتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں۔ یہ تو روز کا معمول ہے۔

لیکن کیا آپ نے کبھی یہ بھی سنا کہ آج گھر میں کھانا بہت غذائیت والا تھا یا صحتمند تھا۔ یا فلانے ہوٹل ریسٹورینٹ کا کھان کھانا بہت غذائیت والا تھا یا صحتمند تھا یا ہوتا ہے۔ یا کوئی ریسیپی کسی نے کسی کو دی ہو جس میں کھانے کو غذائیت والا بنانے کی ترکیب ہو۔یا کسی کمپنی نے کوئی پروڈکٹ کا اشتہار چلایا ہو ٹی وی پر کہ اس کی یہ پروڈکٹ بہت صحت والی ہے یا کسی شیف نے بتایا ہو یا کسی چینل نے  پرگرام کیاہو۔ یا کہیں سے کوئی ٹوٹکا ملا ہو۔ سب کا زرو کھانے کو لذیذ ذائقے دار بنانے پر لگا ہوتا ہے۔یعنی کھانوں میں غذائیت ہماری ترجیحات میں سرے سے کہیں ہے ہی نہیں۔بلکہ تصور تک ہی نہیں۔

میں نے اب تک جتنے لوگوں سے پوچھا کہ آپ کھانا کیوں کھاتے ہیں تو  اکثریت کا جواب تھا

بھوک مٹانے کے لیے

دوسرے نمبر پر جواب تھا  زندہ رہنے کے لیے

لیکن  یہ کسی نے بھی نہیں کہا کہ غذائیت کے لیے 

جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم لوگوں کی خواش اور پوری کوشش ہوتی ہے کہ کھانا جیسے بھی ہو لیکن ہو ذائقہ دار۔اور تعریف بھی کی جاتی ہے ذائقہ دار کھانوں کی ہی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذائقہ ہی سے اہم ترین ہوتا ہے ہمارے کھانوں میں۔ 

دوسرا سوال تھا کہ جسم کو کیسے کھانے کی ضرورت ہے۔

 ذائقے دار کھانے کی  یا  غذائیت والے کھانے کی۔

یقینا ہمارے جسم کو غذائیت والے کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ذائقے کا تعلق تو صرف زبان تک ہے چند سیکنڈز کے لیے جب تک کھانا منہ میں ہوتا ہے جبکہ غذائیت کا اثر ہمارے سارے جسم پر صحت پر ہوتاہے۔ اور زبان تو صرف چار ذائقے محسوس کرتی ہے۔ 

   کھانا جیسے ہی زبان سے آگے جاتا ہے ذائقے کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ اب سب کھانوں کا ذائقہ ایک جیسا ہو جاتا ہے۔ یعنی جسم کی ضرورت ہے غذائیت نہ کہ ذائقہ۔ غذاوں سے چاہیے ہوتے ہیں

 جسم کو انرجی کے لیے  کاربو ہائیڈریٹس۔ 

جسم، عضلات اور دیگر ٹشوز بنانے ان کی مرمت کرنے  کے لیے  پروٹینز،

 اعضاء کی حفاظت  اورخلیوں کی نشونما  کے لیے فیٹس۔ منرلز اینزائمز اور پانی۔

جسم کے لیے  توذائقے کی تو کوئی اہمیت ہی نہیں ہے اور نہ اسکی ضرورت۔ اسی لیے بچہ  پیدا ہونے کے بعدصرف  ماں کے دودھ سے اپنے جسم کی ساری ضروریات پوری کرتا ہے۔دودھ میں کون سا ذائقہ ہوتا ہے۔ بیماری میں اگر ہم ہسپتال میں داخل ہو جائیں تو  ہسپتال والے جو کھانا دیتے ہیں اُس میں کون سا ذائقہ ہوتا ہے۔

جبکہ ہماری ساری بھاگ ڈوڑ ہوتی ہے اسکے اُلٹ۔ ذائقہ،نہ کہ غذائیت۔ یہاں گنکا ہی اُلٹی بہہ رہی ہے۔ کاش ہم لوگ کھانے کو لذیز ذائقے داربنانے پر جتنی توجہ دیتے ہیں محنت کرتے ہیں پیسہ لگاتے ہیں اگر اتنا کچھ کھانے کو صحتمند بنانے پر کریں تو نوے فیصد بیماریاں ویسے ہی ختم ہو جائیں اور جو ہیں بھی وہ جلد ٹھیک ہو جائیں۔اسی اُلٹی گنکا بہنے کے سبب آجکل وباء کی طرح بیماریاں پھیل ری ہیں جن میں سر فہرست ہے موٹاپا اور شوگر۔فیٹی لیور۔بدہضمی قبض۔ کولیسٹرول۔ بی پی۔ گردے فیل۔ ہارٹ اٹیک۔ سوزش۔جوڑوں پٹھوں کے درد۔ جسمانی کمزوری اورٹھکاوٹ۔ مردوں اور عورتوں کے امراض۔

ہم اپنی خوراک اور لائف سٹائل میں ضروری تبدیلیاں کر کے دور جدید کے ان امراض سے باآسانی بچ سکتے ہیں۔اس سے نہ صرف ہماری صحت بہتر ہوگی بلکہ اعلیٰ لائف کولٹی کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں دوائیوں پر ہونے والے اخراجات میں بھی نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔


Comments

Popular posts from this blog

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -2) | Diet And Lifestyle Before Diabetic | Ziyabtas Se Pehle Ki Khurak Aur Tars Zandgi | ذیابیطس سے پہلے کی خوراک اور طرز زندگی

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -4) | خوراک غذا اور شوگر | Foods and Sugar Contents | Carbs Proteins Fats | What is Sugar Diabetes | Where glucose come from in blood

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -1) | Min Ne Ziyabtas Ko Kise Reverse Kiya | میں نے شوگر کیسے ریورس کی