Foods or Bombs of Diseases | Foods Nightmare | کھانے یا بیماریوں کے بم
کھانے یا بیماریوں کے بم
ہمارے کھانوں میں بعض ایسی اشیاء شامل ہوتی ہیں جو ہرگز ہرگز ضروری نہیں ہوتیں لیکن ہم انہیں بے حد شوق سے کھاتے ہیں۔ حقیقت میں یہ غذائیں نہیں بلکہ بیماریاں پیدا کرنے والے بم ہیں جو ہمارے جسم میں جمع ہو کر بعد میں سنگین مسائل کا سبب بنتے ہیں۔ ان کھانوں کا استعمال 10 سے 15 سال بعد شوگر، موٹاپا، ہارٹ اٹیک، فیٹی لیور، گردوں کی بیماریاں، کولیسٹرول، اندھا پن، سوزش، جوڑوں اور پٹھوں کے درد، جسمانی کمزوری سمیت کئی پیچیدہ امراض کوجنم دیتا ہے۔
ان مضرِ صحت کھانوں میں سے چند پر نظر ڈالتے ہیں
:حلوہ پوری
حلوہ پوری ایک مشہور ناشتہ ہے لیکن غذائیت کے لحاظ سے انتہائی نقصان دہ ہے۔ پوری خالص میدے اور چینی سے بنتی ہے جو کاربوہائیڈریٹس ہیں جوکہ شوگر، چربی اور موٹاپے کا باعث بنتے ہیں۔ پھر پوری کو کوکنگ آئل میں مکمل طور پر تلنے کے لیے ڈبو دیا جاتا ہے۔ کوکنگ آئل پہلے سے ہی صحت کے لیے مضر ترین ہوتا ہے اور پھر بار بار گرم ہونے سے زہریلا ہو جاتا ہے اور انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر۔ مزید، حلوہ بھی میدہ، گھی، چینی اور تیل سے تیار کیا جاتا ہے جس سے یہ ناشتہ صحت کے لیے غذا کے بجائے ایک فوڈ بم بلکہ فوڈ ایٹم بم بن جاتا ہے۔دیگر شہروں کا تو مجھے زیادہ پتہ نہیں کراچی میں تو ہر علاقے گلی محلے سے اتوار والے لوگ لائن لگا کر لیتے ہیں۔
:سموسہ اور رولز
سموسے اور رول کی پٹیاں خالص میدے سے بنی ہوتیں ہیں جن میں اُبلے ہوئے آلو بھرے جاتے ہیں۔ آلو میں کاربوہائیڈریٹس پہلے ہی زیادہ ہوتے ہیں اور اُبالنے کے بعد یہ مزید بڑھ جاتے ہیں۔ انھیں تیل میں مکمل ڈبو کر تلا جاتا ہے جس سے ان میں چربی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ کیچ اپ، مایونیز یا کسی میٹھی چٹنی کے ساتھ کھانے سے انکی مضرات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ صحت کے لیے ایک سپر فوڈ بم بن جاتے ہیں۔
: شیرمال
شیرمال بھی مکمل طور پر میدے سے تیار کیا جاتا ہے جس میں چینی کا شیرا اور ویجیٹیبل گھی شامل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ انتہائی نقصان ہوجاتاہے جوشوگر، وزن بڑھانے اور دیگر بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
: جلیبی
جلیبی میدہ اور کارن فلور سے تیار کی جاتی ہے پھر اسے تیل میں تلا جاتا ہے اور چینی کے شیرے میں ڈبو دیا جاتا ہے۔ چینی کی زیادہ مقدار اور بار بار گرم کیے گئے تیل کا استعمال جلیبی کو صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ بنا دیتا ہے۔
:پراٹھا
ہوٹلوں میں ملنے والے پراٹھے میدے یا سفید فائن آٹے سے بنائے جاتے ہیں۔ پہلے ان میں گھی ملایا جاتا ہے اور پکانے کے دوران مزید گھی شامل کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ انتہائی غیر صحت بخش ہو جاتے ہیں اور کولیسٹرول، موٹاپے اور دل کی بیماریوں کو بڑھا دیتے ہیں۔
:مٹھائیاں
مٹھائیاں میدے اور سوجی سے بنائی جاتی ہیں جن میں چینی اورویجیٹیبل گھی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ تمام اجزاء صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں جو موٹاپے، شوگر اور دل کی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔
: کیک
کیک بھی میدے سے بنتا ہے جس میں بڑی مقدار میں کریم، کوکنگ آئل اور چینی شامل کی جاتی ہے۔ یہ تمام اجزاء صحت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں اور وزن بڑھانے کے علاوہ دیگر پیچیدہ بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
: آلو کی چپس۔ فنگر فرائز
آلو پہلے ہی کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور ہوتے ہیں اور تیل میں تلنے کے بعد ان کی نقصان دہ تاثیر بڑھ جاتی ہے۔ ان میں کیچ اپ، مایونیز یا دیگرمیٹھی چٹنیوں کے ساتھ کھانے سے یہ مزید مضر صحت بن جاتے ہیں جو وزن اور کولیسٹرول بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کراچی کا تو شاید ہی کوئی علاقہ محلہ ایسا ہو جہاں درجنوں چپس والے نہ ہوں ۔
کیا یہ غذائیں ضروری ہیں؟
یہ تو صرف چند مثالیں ہیں اس طرح کی اور بھی بہت ساری چیزیں ہیں جو ہم بلا مقصد کھانے پیتے ہیں۔یہ تمام کھانے ہماری صحت کے لیے کسی بھی طرح ضروری نہیں ہیں بلکہ صرف ذائقے اور تفریح کے لیے کھائے جاتے ہیں۔ لوگ یہ سوچے سمجھے بغیر ان کا استعمال کرتے ہیں رہتے ہیں کہ اتنی زیادہ مقدار میں کاربوہائیڈریٹس، ویجیٹیبل گھی اور چینی جسم میں جا کر کس قدر موٹاپا، شوگر اور دیگر سنگین مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اکثر والدین اپنے بچوں کو بھی شوق سے یہ نقصان دہ کھانے کھلاتے ہیں جو ان کی صحت کے لیے زہر سے کم نہیں ہیں۔ یہ سلو پئزنگ ہیں جو پندرہ بیس سال بعد انھیں بیماریواں کاگھر بنا دیں گی۔صرف زبان کے چسکے کے لیے یہ کھانے ان کی صحت کے لیے ایک نائٹ میئر ثابت ہونگے لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ بہت دیر۔بعض کی تو واپسی بھی ممکن نہیں ہوگی۔
صحت مند زندگی کی طرف قدم بڑھائیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اور آپ کے بچے صحت مند زندگی گزاریں تو ان مضرِ صحت کھانوں سے گریز کریں اور متوازن غذا کا انتخاب کریں۔ قدرتی غذاؤں جیسے کہ تازہ سبزیاں، دالیں، پھل، خشک میوہ جات اور گھریلو پکوانوں کو اپنی خوراک میں شامل کریں تاکہ ایک صحت مند اور متحرک اور خوشحال زندگی جی سکیں۔
Comments
Post a Comment