How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -6) | کلوریز شوگر کیا ہے۔ ہماری ضرورت کتنی ہے | How much Calories Glucose we need
بلڈ شوگر کیا ہے اور ہمیں کتنی ضرورت ہوتی ہے؟
گذشتہ دونوں بلاگز میں غذاوں کے بارے میں بتایا تھا کہ کون کون سی غذائیں ہمارے لیے اہم ہوتیں ہیں اور اُن کی کیا افادیت ہوتی ہے ہمارے جسم کے لیے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ انسان کھانا کھاتا کیوں ہے؟ یا اسکو اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ جسم کو غذاوں کی کیا ضرورت ہے ؟
انسانی جسم کو زندہ رہتے کے لیے توانائی چاہیے جو اسے غذاوں سے حاصل ہوتی ہے ۔لہذا کھانا انسان کی مجبوری ہے اگر اس نے زندہ رہنا ہے تو۔
اس کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتنی توانائی چاہئے ہوتی ہے انسان کو روزانہ؟
یہی سب سے اہم ترین سوال ہے اگر اسکو سمجھ لیا جائے تو انسان نہ صرف شوگر سے بچ سکتا ہے بلکہ اوربھی بہت ساری بیماریوں سے بچ سکتا ہے ۔
کلوریز : ہمارے جسم کو زندہ رہنے اور اپنے تمام کام انجام دینے کے لیے توانائی چاہیے ہوتی ہے جو وہ غذاوں سے حاصل کرتا ہے ۔یعنی غذائیں فیول ہیں ہمارے جسم کا ۔ اور ان سے حاصل ہو نے والی توانائی کلوریز کہلاتی ہے ۔ تمام کھانے پینے کی اشیاء کے لیبل پر کلوریز لکھی ہوتیں ہیں عوام کی آگاہی کے لیے کہ یہ خوراک کھانے سے انھیں کتنی کلوریز حاصل ہونگی ۔ایک نارمل اور صحتمند مرد کو دن بھر کی مصروفیات کے لیے تقربیاً 2200سے 2600 اور عورت کو1600سے 2000 کلوریز چاہیے ہوتیں ہیں۔ جسم انرجی حاصل کرتا ہے کاربو ہائیڈریٹس ، فیٹس اور پررٹین سے۔ ایک گرام کاربز( چینی) 4، ایک گرام پروٹین بھی 4 اور ایک گرام فیٹ 9 کلوریز انرجی مہیا کرتے ہیں۔
بلڈ شوگر کیا ہے اور کیا کرتا ہے ۔
جب ہم کاربو ہائیڈریٹس کھاتے پیتے ہیں تو یہ گلوکوزمیں تبدیل ہوکر خون میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ جسے بلڈ شوگر کہا جاتاہے اور انسولین اسے جسم کے تمام خلیات تک پہنچاتی ہے جہاں سب سے پہلے مسلز سیلز اسے انرجی میں تبدیل کرتے ہیں ، لیور سیلز اسے گلائکو جن میں تبدیل کر کے اسٹور کرتے ہیں جو بعد میں ضرورت پڑھنے پر انرجی کے لیے استعمال ہوتاہے آخر میں فیٹ سیلز بچ جانے والے گلوکوز کو چربی کی شکل میں اسٹور کرتے ہیں لمبے عرصے کے لیے ۔
انسانی جسم فیٹس اور پروٹین کو براہ راست خون میں شامل نہیں ہونے دیتا ہے انرجی بنانے کے لیے۔ دوسرے لفظوں میں اسے ہم اسطر سمجھ سکتے ہیں کہ فیٹس اور پروٹین سے براہ راست شوگر نہیں بڑھتی اور انرجی بھی حاصل ہو جاتی ہے ۔البتہ اگر خون میں گلوکوز کی مقدارضرورت سے کم ہو جائے تو جگر فیٹس اور پروٹین کو گلوز میں تبدیل کرتا ہے۔رب نے کیا ہی شاندار سسٹم بنایا ہے توانائی حاصل کرنے کا۔انسان کا زندہ رہنے کا۔ایک ہی غذا میں باجرے کے ایک چھوٹے سے دانے میں کاربو ہائیڈریٹس بھی ہوتے ہیں فیٹس بھی اور پروٹین بھی، فائبر ، وٹامنز، منرلز ، کیلشیم ، میگنیشیم ،فاسفورس ،زنک،اینٹی آکسیڈنٹس بھی ۔
بیشک سب تعریفیں اللہ کے لیے ہی ہیں جس کے سوا عبادت کے لائق کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا ہے
ہمیں کتنی گلوکوز چاہیے اور ہم لیتے کتنی ہیں:۔
جسم اپنے لیے توانائی کا65 فیصد تک کاربو ہائیڈریٹس یعنی گلوکوز سے حاصل کرتا ہے۔ سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ ( ایک دن 24 گھنٹوں) کے لیے کتنا گلوکوز ہمارے جسم کی ضرورت ہے اور ہم کتنالیتے ہیں؟؟؟ اگر یہ اچھی طرح سمجھ جائیں تو شوگر کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔نہ صرف شوگر کا مسئلہ حل ہو جائے گا بلکہ اور بھی بہت سارے صحت کے مسائل جس میں خاص کر موٹاپا، کولیسٹرول ، ہائی بلڈ پریشر ،فیٹی لیور اوراندرونی جسمانی سوزش ، سستی تھکاوٹ، یورک ایسڈجیسے سنگین بیماریاں بھی ختم ہو جائیں گے۔
ہمیں دن بھر کے لیے جو انرجی چاہئے ہوتی ہے وہ چینی ، روٹی اور چاولوں کے بغیر بھی مل جاتی ہے ۔اسی لیے بچہ پیدا ہونے کے بعد صرف دودھ استعمال کرتا ہے جس سے اُسے مطلوبہ انرجی مل جاتی ہے ۔ اگر کوئی فرد صرف گھر میں رہتا ہے کوئی خاص مصرفیات نہیں ہیں مثلاً ریٹائرڈ حضرات یا بزرگ خواتین تو انھیں دن بھر کے 225گرام گلوکوز بھی کافی ہوتا ہے ۔ جو افراد گھر میں تو رہتے ہیں لیکن ایکٹیو بھی ہوتے ہیں مثلاً گھر کے کام کاج کرنا، مارکیٹ جانا ، سیڑھیاں چڑھنا، بچوں کو سکول چھوڑنا واپس لانا، مسجد جاناوغیرہ وغیرہ تو انھیں 250گرام کافی ہوتا ہے ۔ اور جو جابز کرتے ہیں آفس آنے جانے میں کوئی تیس کلومیٹر سفر کرتے ہیں لیکن زیادہ مشقت والا کام نہیں ہوتا آفس ورک ہوتا ہے کچھ ورزش بھی کرتے ہیں تو انھیں 300 گرام گلوکوز بہت ہوتا ہے۔ اور جوافراد مشقت والا کام کرتے ہیں مثلاًمزدور یا کھلاڑی یا جو زیادہ ایکسرسائز جم وغیرہ کرتے ہیں تو انھیں اور بھی زیادہ ضرورت ہوتا ہے اپنی جسمانی مضروفیات کے حساب سے ۔
دن بھر کی ضرورت کے لیے جتنا گلوکوز چاہیے ہوتا ہے اس میں سے مرد صرف 36 گرام چینی ایڈڈشوگر (9چائے وا لا چمچ ) اور عورت 25 گرام (6چائے وا لا چمچ) لے سکتے ہیں چائے ،مشروبات، کیک ،سافت ڈرنکس، آئسکریم ،مٹھیائیوں وغیرہ کی شکل میں۔ یعنی ایک دن میں مرد ( جو شوگر کے مریض نہیں ہیں ) کے لیے 9چائے وا لے چمچ اور عورتیں( جو شوگر کے مریض نہیں ہیں ) کے لیے 6چائے وا لے چمچ چینی استعمال کرنا مضر صحت نہیں ہے ۔بقایا گلوکوز دیگر اجناس سے لے سکتے ہیں ۔
اور دوسری طرف ہم کتنی شوگر لیتے ہیں ۔ 50 گرام سفید آٹے سے گھر کی بنائی گئی صرف ایک چپاتی میں 40گرام( 10چائے وا لے چمچ) شوگر ہوتی ہے ۔ پانچ چھ روٹیاں تو ہر کوئی کھا جاتا ہے۔ جبکہ صرف چھ روٹیوں کی شوگر 240 گرام بنتی ہے 60چائے وا لے چمچ ۔اس علاوہ چار کپ چائے اور تین پلیٹ سالن میں کاربز تقریباً 100 گرام تک ہو جاتے ہیں ۔ اسکے علاوہ پھر کبھی بسکٹ، کبھی اسنیکس، کبھی چپس ،کبھی سموسے پکوڑے، کبھی مٹھائی ،کبھی جوس ،کبھی سوڈا، کبھی سوفٹ ڈرنک، کبھی فروٹ ، کبھی فروٹ چاٹ، کبھی پاپ کار ن ۔یعنی مزید کوئی 100 گرام ۔اسطرح روزانہ لگ بھگ 200 گرام تک گلوکوز 50چائے وا لے چمچ ہم اپنی ضرورت سے زیادہ لیتے ہیں جو جسم میں چربی کی شکل میں جمع ہوتی رہتی ہے جو پیٹ کے گرد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔اسکے بعد تمام اعضاء میں جمع ہوتی رہتی ہے۔اور یہی ہماری ضرورت سے زیادہ گلوکوزوجہ بنتی ہے نہ صرف شو گر کی بلکہ موٹاپا، کولیسٹرول ، ہائی بلڈ پریشر ،فیٹی لیور، سوزش ، سستی تھکاوٹ، یورک ایسڈ گروں کے امراض اندھا پن ،پاوں ٹانگوں کے امراض کی
Comments
Post a Comment