How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -3) | میری خوراک اور طرز زندگی | Diet and Lifestyle for Diabetes Cure
میری خوراک اور طرز زندگی
،اسلام علیکم
یہ میرا تیسرا بلاگ ہے اور یہاں سے شروع ہوتے ہیں میرے چار پانچ سالہ تجربات جو میں نے کیے شوگر کو ریورس کرنے میں۔ یقینا یہ آپ سب لوگو ں کے لیے چاہے شوگر کے مریض ہیں یا نہیں بہت مفید ثابت ہوگے۔لیکن اس سے پہلے چند ضروری سوالات ہیں جنکے جواب دینا ضروری ہے
کیا شوگر واقعی قابل علاج ہے یا یہ صرف باتیں ہیں؟
شوگر (ٹائپ ٹو ڈائبیٹس) باکل قابل علاج ہے۔ اور میں خود اسکی مثال ہوں۔اس کے علاج سے آسان اور سستا علاج کسی بھی بیماری کا نہیں ہے۔
کیا اسکی کوئی دوائی ہے؟
ایسی کوئی دوائی نہیں ہے جس سے یہ مکمل طور پرٹھیک ہو جائے؟
اگر دوائی نہیں ہے تو پھر یہ ٹھیک کیسے ہوتی ہے
صرف اور صرف مریض کے اوپر ہے ۔اگر وہ چاہے توبغیر کوئی دوائی استعمال کیے ہوئے باکل ٹھیک ہو سکتا ہے اگر نہ چاہے تو دنیا کا کوئی ڈاکٹر حکیم دوائی اسکو ٹھیک نہیں کر سکتے ہیں ۔
کتنا وقت لگتا ہے ٹھیک ہونے میں؟
یہ بھی صرف مریض پر منحصر ہے کہ وہ کتنا جلد صحتمند ہونا چاہتا ہے۔ خون سے شوگرتو ایک دن میں بھی کم ہوجاتی ہے لیکن مکمل ٹھیک ہونے میں کم از کم چھ ماہ درکار ہوتے ہیں ۔عمر کا بھی بہت فرق پڑتاہے۔
کیا علاج کے بعد شوگر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہے ؟
علاج کے بعد بندہ بالکل نارمل زندگی گزارتا ہے لیکن اگر علاج سے پہلے والی طرز زندگی اور خوراک شروع کر دی تو دوبارہ ہو جائے گی۔
میں اپنا تجربہ بیان کرتا ہوں کہ میں نے اپنی شوگر کاعلاج بغیر ادویات کے کیسے کیا ۔کس طرح صرف چارپانچ برسوں میں اس مرض سے مکمل طور پر نجات پائی ۔
شوگر کتنی تھی
میری فاسٹنگ شوگرخطرے ناک نہیں تھی لیکن شوگر کے شدت کے اثرات بہت سالوں سے محسوس کر رہا تھامثلا شدید تھکاوٹ۔بوجھل جسم و جان۔ ٹانگوں میں شدیددردیں۔ پاوں کا بہت زیادہ جلنا۔ وزن بڑھنا بالخصوص پیٹ۔بہت زیادہ پیاس لگنا ۔ڈپریشن وغیرہ وغیرہ۔ علاج کے لیے میں نہ تو کبھی ڈاکٹر کے پاس گیا اور نہ کوئی دوا لی۔خود جو کچھ سیکھتا تھا اُس پر عمل کرتا گیا لیکن پہلے سال بجائے کم ہونے کے بڑھ کر فاسٹنگ شوگر6.7 (161 ) ہو گئی تھی۔ یعنی اب میں آفیشل شوگر کا مریض ہو گیا تھا۔ گو کہ شوگرلیول بڑھ گیا تھا لیکن اس کے اثرات کم ہو رہے تھے۔ میں جسمانی طور پر پہلے سے بہتر محسوس کر رہا تھا۔ وزن کم ہونا شروع ہو گیا تھا۔ پہلے سے تھوڑا بہت چست ہو گیا تھا۔ پاوں کی جلن بھی کم ہو رہی تھی جس سے کچھ حوصلہ ملا تھا۔۔لہذا ڈاکٹروں کے پاس جانے کے بجائے خود ہی اپنا علاج جاری رکھا اور اسکو بہتر سے بہتر کرتا گیا ۔الحمداللہ ،چار سال کی کوششوں کے بعد اب میں شوگر کا مریض نہیں رہا۔ بالکل نارمل ہو گیا ہوں۔
DIET خوراک
سب سے پہلے کھانے میں سفید فائن آٹے کہ جگہ لال آٹا استعمال کرنا شروع کیا۔ روزانہ کی خوراک میں سے دو چپاتیاں ،بریانی اور چھ چمچے چینی کم کی ۔ کولڈ ڈرنکس، جوسس ،مٹھیاں، بیکری کے ایٹم نوے فیصد تک کم کیے۔اور شام کوواک شروع کی جو دس منٹ کی بھی نہیں ہوتی تھی ۔ لیکن ان سب کے باوجود شوگر کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی تھی۔
اگلے مرحلے میں میں نے کھانے میں مزید دو چپاتیاں اور چینی کے دو چمچے کم کیے۔ناشتہ میں زیرے والے دہی کے ساتھ پیاز، رات بھر بھگوئے ہوئے کالے چنے۔ بادام، پھول مکھانے اور اُبلئے ہوئے دو انڈے لیتا تھا اور ایک کپ نارمل چائے۔ دوپہر میں فروٹ کی جگہ سلاد اور چکن کباب لینا شروع کیے۔ دن گیارہ بجے اور شام پانچ بجے بغیر چینی کے گرین ٹی میں دارچینی اور لیموں ڈال کر پینا شروع کی ۔ رات کو ایک چمچہ زیرہ ۔ ایک چمچہ میتھی دانے کا پوڈر (چھوٹی میتھی )۔ کلونجی ۔دو لونگ اور اجوائن بھگو دیتا تھا گرم پانی میں جو صبح نہار منہ پی لیتا تھا۔ ڈنر میں دو چپاتیاں سالن اور ایک کپ چائے ۔رات سوتے وقت ہلدی دودھ (ہلدی گھر کی بنی ہوئی جس میں سیلون دارچینی اور کالی مرچ کا پوڈر شامل ہوتا تھا ) اسپغول کے چھلکے کے ساتھ پیتا تھا ۔ شام کے بجائے صبح کے وقت واک کیا کرتا تھا جو کہ دس منٹ سے بڑھ کر ایک گھنٹے تک پہنچ گئی تھی۔ دو برس بعد ان تبدلیوں کے سبب میرافاسٹنگ شوگرکم ہو کر (126) 5.7 ہوگیا۔ ٹانگوں کا درد پاوں کی جلن بالکل ختم ہو گئی۔وزن بارہ کلو کم ہو گیااور جسمانی طور پر بہت بہتر فٹ محسوس کر رہا ہوں۔
گو کہ اب میں شوگر کا مریض نہیں رہا تھا لیکن میں نے اسکو مزید بہتر کرنے کے لیے ہفتے میں چار دن ناشتے میں دودھ بغیر چینی کے۔ کھجور۔ گوند کتیرا۔ بادام۔ کدو کے بیج۔ چیا سیڈ۔ تحم ملنگا اورالسی کے بیج شامل کرتا ہوں انکے ساتھ پھول مکھانے اور ایک کپ نارمل چائے ہوتی ہے۔ اور دو دن ناشہ میں آملیٹ جس میں چکن یا گوشت اور دالیں چنے وغیرہ بھی شامل ہو تیں ہیں بغیر روٹی کے کھاتا ہوں ۔ لنچ میں سلاد ا ور موسمی فروٹ اور کھبی کھبار چکن کباب ۔لنچ کے بعد سونف جس میں سفید تل۔ کشمش ۔کھوپرا۔،اخروٹ اور سورج کبھی کے بیچ شامل ہوتا ہے لیتاہوں ۔یہ سب ملاکر سو گرام سے بھی نہیں ہوتے ہیں ۔دن گیارہ بجے اور شام پانچ بجے بغیر چینی کے گرین ٹی میں دارچینی اور لیموں ڈال کر پیتا ہوں ۔ زیرہ ،میتھی دانہ ۔ کلونجی ۔ لونگ اور اجوائن کا پانی صبح نہار منہ اب بھی لیتا ہوں۔
رات ڈنر نہیں کرتا ہوں ،صرف ایک کپ چائے۔اگر بھوک لگ جائے تو بھونے ہوئے چنے یا انڈوں کا آملیٹ بغیر روٹی کے ۔روزانہ گھر کا بنا ہو ا دہی ایک پیالہ باقاعدگی سے لیتا ہوں ۔ صبح شام شہد میں کالے مرچ۔لہسن اور ادرک کرش کر ے ایک بڑا چمچ کھا لیتا ہوں اور دفتر سے واپسی پر لیموں پانی بغیر چینی کے پیتا ہوں ۔ اتوار کو چیٹ ڈے ہوتا ہے۔ناشتے میں زیادہ تر چائے اور پڑاٹھا اور دوپہر میں بریانی یا کوئی اور سالن روٹی۔ چار کیپ چائے ۔ اور رات کو کچھ نہیں کھاتا ہوں۔ صرف چائے۔ یعنی صرف ایک دن روٹی یا چاول ہوتے ہیں باقی کے چھ دن نہیں۔ایک دن بھی اس لیے کہ تاکہ معدے اور جسم کے لیے یہ بالکل اجنبی ہی نہ ہو جائیں۔تاکہ اگر کسی فنگشن یا کسی کے گھر جانا پڑے تو کھانے کے لیے کچھ تو ہو۔
اب اپنے آپ کوتیس سال پہلے جیسا محسوس کر رہا ہوں۔اس سے نہ صرف شوگر نارمل ہوئی بلکہ کولیسٹرول 240 سے کم ہوکر 203ٹرائی گلیسرایڈ 150 سے کم ہو کر 130 ہو گے۔بی پی بھی نارمل ہوگیا ،وزن 92 کلوسے 80کلو سے بھی کم ہو گیا ہے۔ بڑھا ہوا پیٹ نارمل ہو گیا ہے۔ پیٹ اور ہاضمے کے بہت سے مسائل جو مجھے 40-35 سالوں سے تھے بہت کم ہو گے ہیں۔اب جب نئے ٹیسٹ کراوں گا تو اُمید ہے کہ فاسٹنگ شوگر مزید کم آئے گا۔ایل ڈی ایل بھی نیچے آجائے گا اور ایچ ڈی ایل بڑھ جائے گا انشاء اللہ۔
میں نے شوگر بغیر ادویات اور بغیر ڈاکٹر کے ریورس کی ۔ ایک بار بھی کوئی دوا نہیں لی نہ ڈاکٹر کے پاس گیا ۔ صرف کھانوں میں تبدیلی کرتا رہا۔ روٹی چاول کم کرتا رہا اور ان کی جگہ سلاد ،دودھ دہی اور ڈرائی فروٹ بڑھاتا رہا۔ اگر میں کرسکتا ہوں تو سب لوگ کر سکتے ہیں بلکہ بہت اچھا کر سکتے ہیں۔ حالانکہ مجھے شدید کمر درد تھا جس کی وجہ سے میں ایکسرسائز بالکل نہیں کر سکا ۔ واک بھی باقائدگی سے نہیں کر سکتا تھا۔
اگلے بلاگ بہت ہی اہم اور معلوماتی ہونگے۔ ان میں شوگر کے بنیادی وجوہات پر بات ہوگی ۔اسکے علاج کے لیے جو کچھ میں نے کیا ان میں بائی چانس کچھ بھی نہیں تھا۔ کیا حکمت تھی اس علاج میں سب بتاوں گا۔خوراک میں تبدیلی سے کیا معجزات ہوتے ہیں اور کیوں، بھی بتاوں گا۔ جب تک شوگر کے بنیادی وجوہات اور اُسکے علاج کی سائنس کو اچھی طرح نہیں سمجھیں گے آپ کبھی بھی اُن پر پوری طرح سے عمل نہیں کر سکیں گے۔
Comments
Post a Comment