How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -14) | Natural Remedies for Healthy Stomach | Eating or Suicide in Weeding and Aftar
بیمار معدہ بیمار جسم صحتمند معدہ صحتمند جسم
چاہے شوگر کے مریض ہوں یا نہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں توان میں کارب جلد ہضم ہو جاتے دو گھنٹوں کے اندر اندر جس کی وجہ سے دوچار گھنٹوں کے بعد بھوک لگ جاتی اور ہم مزید کھانے کھاتے ہیں جبکہ پروٹین چھ اور فیٹس آٹھ گھنٹے لیتے ہیں ہضم ہونے میں جس کی وجہ سے ہمیں کھانے کی جلد طلب نہیں ہوتی۔ اس دوران ہمارے سارے نظام انہظام کو بھی ریسٹ مل جاتی ہے جس سے اسکی لائف اور پرفارمنس بڑھ جاتی ہے۔ہمارا جسم جمع شدہ توانائی کو استعمال کرتا رہتا ہے بجائے نیا کھانا کھانے کے جس سے نہ صرف شوگر کم ہوتی ہے بلکہ ٹرائگلیسرائڈ بھی کم ہوتے ہیں اور کولیسٹرول اور موٹاپا بھی۔ خون میں شوگر اور ٹرائگلیسرائڈ کم ہوں تو کولیسٹرل خون کی نالیوں میں نہیں جمتا اور نہ ان میں سختی ہوتی ہے جس کے سبب خون کی نالیوں بلاکیج اور ہارٹ اٹیک کے چانسز کم ہو جاتے ہیں۔
میتھی دانہ،دار چینی، ہلدی،زیرہ، ادرک، لہسن، سونف، لیموں،لونگ، کالی مرچ،جوائن،کلونجی،پودینہ ایسی ہربز مصالحہ جات ہیں جو اگر بغیر پکائے ہوئے قدرتی فام میں استعمال کی جائیں تو یہ جہاں بہت ساری بیماریوں کے خلاف بہت اچھا کام کرتیں ہیں وہیں معدے کے مسائل مثلاً بدہضمی، اپھارہ، تیزابیت،خوراک کا پوری طرح ہضم ہو کر جذب نہ ہونا، گیس جیسے مسائل سے بھی بچاتیں ہیں۔ لازمی نہیں ساری ایک ساتھ استعمال کریں۔ دوتین ہفتوں تک کچھ استعمال کریں۔ اگلے دوتین ہفتے کوئی اور استعمال کریں۔ رات کو پانی گرم کر کے انکو پوری رات کے لیے بھگو دیں۔ صبح سب پی جائیں تو بہت اچھاہے نہیں تو انکا پانی پئیں خالی پیٹ ناشتہ کرنے سے ایک گھنٹہ پہلے۔ یہ مسلسل نہیں کھانے ہیں۔ تین ہفتوں کے مسلسل استعمال کے بعد کم از کم ایک ہفتے کا گیپ دیں۔ اگر سفر میں ہوں تو انکے کیپسول بنا کر ساتھ رکھ سکتے ہیں۔سبز پتوں والی ساری سبزیاں بہترین ہیں لیکن بھنڈی سب سے بہترین ہے
اسکے علاوہ ایک تو نمک کم استعمال کریں اور سفید ریفائنڈ نمک کی جگہ گلابی نمک استعمال کریں۔ کیملکلی پروسیسڈ کونگ آئیل کی جگہ نیچرلی پروسسڈ آئل استعمال کریں جیسے سرسوں کو تیل کہلوں سے نکلا ہوا۔بناسپتی گھی تو بالکل استعمال نہ کریں۔ ڈلڈا اور کوکنگ آئل چینی سے بھی زیادہ مضر صحت ہیں۔
معدہ اگر بیمار ہو گا تو پورا جسم بیمار ہوگا۔ معدہ صحتمند ہوگا تو جسم بھی صحتمند ہوگا۔
خودکشی:۔ہم اپنے اوپر سب سے زیادہ ظلم شادیوں اور دعوتوں پر کرتے ہیں۔ کم سے کم مینو میں بھی روگنی نان اور بریانی ہوتی ہے۔ یہ دونوں شوگر سے بھری ہوتیں ہیں۔ اوپر سے دو تین سافٹ ڈرنکس تو لے ہی لیتے ہیں اورآخر میں کھیر یا آئس کریم۔ میٹھا پان یا چائے بھی ہو جاتی ہے۔ اگر صرف ان کی شوگر کو جمع کیا جائے تو 270 سے300 گرام تک بنتی ہے۔ ایک وقت میں اتنی شوگر جبکہ ہمیں پورے دن رات کیلیے 200 گرام کافی تھی۔ اس سے اپنے اوپر اور کیا ظلم ہو سکتا ہے۔یہ تو سیدھی سیدھی خودکشی ہے۔ سلو پائزنگ۔کہاں تک جاتی ہے اسپائک اور کیا کیا کچھ کرتی ہے اتنی زیادہ اسپائک میں تو تصور کرکے ہی کانپ جاتا ہوں۔
افطاری:۔افطاری میں بھی ہم لوگ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ضرورت سے بہت زیادہ اور ایک ساتھ کاربو ہائیڈریٹس (کاربز)، پروٹین اور فیٹس کھا لیتے ہیں جس سے روزے سے طبعی طور پر حاصل ہونے والے تمام فوائد ختم ہو جاتے ہیں۔ بلکہ اُلٹا صحت خراب ہو جاتی ہے۔طبعی طور پر بہت زیادہ بہتر ہوتا ہے کہ پہلے کھجور سے افطار کی جائے ایک گلاس پانی پی کر پہلے نماز پڑھی جائے،یابہت ہی کم مقدار میں ان کے ساتھ مزید کچھ کھایا جائے۔ نماز کے آدھے گھنٹے کے بعد کھانا کھایا جائے یاکچھ اور تواس سے روزے سے حاصل ہونے والے طبعی فوائد ختم نہیں ہونگے۔
Comments
Post a Comment