How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -13) | Natural Remedies for Diabetes I Natural Spices for Sugar | Exercise for Sugar | Fasting

 شوگر کی قدرتی ادویات۔طریقے۔ ٹپس اور ٹوٹکے
  کچھ قدرتی ہربز ہیں جو ہمارے کیچن میں ہر وقت ضرور ہوتے ہیں اور روز ہی استعمال کرتے ہیں لیکن یہ غذا سے زیادہ دوا ہیں۔
میتھی دانہ (چھوٹے والے)، دار چینی سلون، ہلدی (بازار ہی نہیں گھر کی بنی ہوئی)،زیرہ، ادرک، لہسن، سونف اورگرین ٹی لیموں کیساتھ بغیر چینی کے، لونگ۔
ان کااستعمال شوگر کے لیے بہت اچھا ہے۔ یہ زیادہ گلوکوزکو خون میں نہیں جانے دیتے جس سے اسپائک نہیں آتی۔ یہ انسولین رزیسٹینس کو کم کرتے ہیں جسکی وجہ سے زیادہ انسولین کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ان اس میں اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جس کی وجہ سے آکسیڈیٹیوسٹرس کم ہوجاتا ہے۔یہ انفلامیشن کو بھی کم کرتے جس کی وجہ سے کولیسٹرول نہیں جمتا۔ انکے استعمال سے ایل ڈی ایل کم ہوتا ہے اور ایچ ڈی ایل بڑھتا ہے اور ٹرائگلیسرائڈ بھی کم ہوتے ہیں جس سے دل کے امراض کے چانسز کم ہو جاتے ہیں۔ ان کے استعمال سے نظام انہظام بہت اچھا ہو جاتا ہے۔وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
 اگر کوئی پہلے سے ہی شوگر کم کرنے والی ادویات لے رہا ہے تو پھر ان کا استعمال احتیاط سے کرنا ہوگا۔ کہیں انکا استعمال شوگر کو ش زیادہ کم نہ کر دے۔ جو ہائی شوگر سے بھی زیادہ خطرے ناک ہے۔ 
اگر کچھ اور غذائیں بھی ہیں جو شوگر کیلیے بہت اچھی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہمارے کیچن میں بھی ہر وقت ہوں۔ورجن زیتون کا تیل۔ سیب کا سرکہ ،  آملہ،  کمال کندل (اولیویرا)۔ نیم کے پتے اور کریلے۔
کریلے لوگ عام طور پر اس لیے کھاتے ہیں کہ یہ انتہائی کڑوے ہوتے ہیں توڑ ہیں میٹھے کا تو اسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔اس میں کمپاونڈ چاراتین پولی پیپٹائڈ اور وسین ہوتے ہیں جو انسولین کی طرح کام کرتے ہیں جس سے خون میں شوگر کی سطح کم ہو تی ہے۔ ایسے مریض جن کی انسولین کی پیداوار کم ہے اُن کے لیے کریلہ بہت زیادہ اچھا ہے۔ اسکے علاوہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹس اجزاء بہت زیادہ ہوتے ہیں جو شوگر کے مریضوں کے لیے اچھے ہوتے ہیں۔ اس میں پائے جانے والے اینٹی انفلامیٹری اجزاء انسولین رزیسٹینس کو کم کرتے ہیں۔
نیم  ایک ایسا درخت ہے جسکا استعمال ہم لوگ بالکل نہیں کرتے زیادہ سے زیادہ اس کے پتوں کو جسم کی خارش اور گرمی دانے دور کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اس میں اینٹی آکسیڈنٹس،اینٹی انفلامیٹری کے ساتھ ساتھ اینٹی بیکٹیریل اینٹی وائرل اور اینٹی فنگل اجزا ء ہوتے ہیں جو نہ صرف جلد کو صاف اور انفیکشن سے بچاتے ہیں بلکہ بلڈ شوگر کو کم کرتے ہیں،جگر کی صفائی کرتے ہیں جگر کی بیماریوں سے بچاتے ہیں جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ 
ورزش
گلوکوز اسٹور ہے اور کب سے ہورہاتھا الگ ایشو ہے لیکن اسکا حل صرف خوراک میں تبدیلی سے نہیں ہے۔ اسکے لیے ایکسرسائز لازمی ہے۔ ایکسرسائز کے دوران جسم کو زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لیے زیادہ گلوکوز استعمال ہوتا ہے پہلے خون سے پھر گلائکوجن سے پھر چربی سے۔ اس طرح ورزش سے نہ صرف ہمارے بلڈشوگر کم ہوتا ہے بلکہ چربی بھی کم ہوتی ہے اور موٹاپا بھی،انسولین رزیسٹینس بھی اور کئی بیماریوں اور مسائل سے بھی بچ جاتے ہیں۔ ورزش کے لیے جم جانا تو سب سے اچھا ہے لیکن ضروری نہیں ہے۔ گھر میں بھی کی جا سکتی ہے۔ روزانہ کم از کم تیس منٹ کی تیز تیز مارننگ واک بہت اچھا ہے لیکن اگر پارک نہیں جاسکتے ہیں تو گھر کی سیڑیاں بار بار اُترنے چڑھنے سے بھی مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ حتی کہ کمرے میں بھی کافی ورزش ہوجاتی ہے۔ کرسی پر بیٹھے بیٹھے یا بیڈ پر لیٹے لیٹے بھی کافی ورزش ہو جاتی ہے۔ 
 ایکسرسائز کے علاوہ سب سے بہتریں طریقہ ہے شوگر اور موٹاپا کم کرنے کا وہ ہے فاسٹنگ۔
       فاسٹنگ  
زیادہ سے زیادہ دیر تک بھوکا رہنا۔ پانی کے علاوہ کچھ بھی کھانا پینا نہیں ہے کیونکہ بنیادی طور پر جسم کو جب گلوکوز کی ضرورت  ہوتی ہے تو ہمیں بھوک کا احساس ہوتا تاکہ ہم جسم کو نیا گلوکوز دیں اور سیلز بھی تیار ہوتے ہیں گلوکوز جذب کرنے کے لیے۔ یعنی جسم کی پہلی ترجحی ہو تی ہے اسٹور شدہ گلوکوز کو استعمال کرنے کے بجائے نیا گلوکوز لینا۔جب ہم مزید کھانا نہیں کھاتے ہیں توجسم مجبورً اسٹور شدہ گلوکوز استعمال ہوتاہے جس سے نہ صرف چربی موٹاپا کم ہوتا ہے بلکہ انسولین رزیسٹینس بھی کم ہوجاتی ہے۔ان کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں ہے شوگر،  وزن اور انسولین رزیسٹینس کم کرنے کا۔
کارب جلد ہضم ہو جاتے دو گھنٹوں کے اندر اندر جس کی وجہ سے دوچار گھنٹوں کے بعد بھوک لگ جاتی اور ہم مزید کھانے کھاتے ہیں جبکہ پروٹین چھ اور فیٹس آٹھ گھنٹے لیتے ہیں ہضم ہونے میں جس کی وجہ سے ہمیں کھانے کی جلد طلب نہیں ہوتی۔ اس دوران ہمارے سارے نظام انہظام کو بھی ریسٹ مل جاتی ہے جس سے اسکی لائف اور پرفارمنس بڑھ جاتی ہے۔ہمارا جسم جمع شدہ توانائی کو استعمال کرتا رہتا ہے بجائے نیا کھانا کھانے کے جس سے نہ صرف شوگر کم ہوتی ہے بلکہ ٹرائگلیسرائڈ بھی کم ہوتے ہیں اور کولیسٹرول اور موٹاپا بھی۔ خون میں شوگر اور ٹرائگلیسرائڈ کم ہوں تو کولیسٹرل خون کی نالیوں میں نہیں جمتا اور نہ ان میں سختی ہوتی ہے جس کے سبب خون کی نالیوں بلاکیج اور ہارٹ اٹیک کے چانسز کم ہو جاتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -2) | Diet And Lifestyle Before Diabetic | Ziyabtas Se Pehle Ki Khurak Aur Tars Zandgi | ذیابیطس سے پہلے کی خوراک اور طرز زندگی

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -4) | خوراک غذا اور شوگر | Foods and Sugar Contents | Carbs Proteins Fats | What is Sugar Diabetes | Where glucose come from in blood

How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -1) | Min Ne Ziyabtas Ko Kise Reverse Kiya | میں نے شوگر کیسے ریورس کی