How I Reversed Diabetes (in Urdu-Part -10) | How Foods Make Us Sick I Oxidation | Free Radicles | Anti Oxidants | Oxidative Stress | Inflammation | Disease caused by sugar
شوگر کس طرح سے بیمارکرتی ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کھانا تو اچھا ہے , زندگی کے لیے ضروری ہے, کھانے کے بغیر تو زندگی ناممکن ہے تو پھر اس سے بیمار کیسے ہوتے ہیں۔یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن غذائیں بیمار کیسے کرتیں ہیں سمجھنا تھوڑا سا ٹیکنیکل ہے۔ کوشش ہوگی کہ ا نتہائی آسان اور عام فہم زبان میں اسکو سمجھایا جائے۔ اگر اس پروسس کو سمجھ لیا تو پھر شوگر اور اس سے مطلقہ بہت ساری دیگر بیماریوں کو کنٹرول کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔
سپائک:۔ اسپائک کا تو سب کو معلوم ہے کہ کھانے کہ بعد اسپائک آتی ہے۔اسپائک کا مطلب ہے کھانے کے بعد ایکدم سے خون میں شوگر کا زیادہ ہونا۔ کیونکہ کھانے کے بعد گلوکوز خون میں شامل ہوجاتا ہے جس سے شوگر کا لیول بلند ہو جاتا ہے اگر یہ ایک حدسے زیادہ ہو جائے تو اسے اسپائک کہا جاتا ہے۔
فری ریڈیکلز، آکسیڈیٹو اسٹرس اورانفلامیشن اوردیگر بیماریاں:۔
انسولین گلوکوز کو سیلز میں پہنچاتا ہے جہاں آکسیجن کی وجہ سے کیمیائی عمل آکسیڈیشن ہوتا ہے جس کے نتیجے میں توانائی حاصل ہوتی ہے لیکن اسی عمل میں فری ریڈیکلز بھی بنتے ہیں جو غیر مستحکم مولیکیولز ہوتے ہیں جن میں ایک الیکٹران کم ہوتا ہے جو دوسروں سے لینے کی کوشش کرتے ہیں جس سے دوسرے سیلز کو نقضان پہنچتا ہے۔ فری ریڈیکلز غیر جوڑی شدہ الیکٹران کی وجہ سے بہت متحرک اور خطرے ناک ہوتے ہیں جن کے مقابلے میں اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے جو انھیں ایک الیکٹران دیتے ہیں خود کو غیر مستحکم کیے بغیر۔ جب فری ریڈیکلز ان سے زیادہ ہو جاتے ہیں تو آکسیڈیٹو اسٹرس پیدا ہوتا ہے۔یہ زیادہ ہو جائے تو بیماریوں میں بھی شدت آجاتی ہے۔مدافعتی نظام کمزور ہونے کی وجہ سے بیماریاں پھیلانے والے جراثیم بیکٹیرا فنگس کنٹرول سے باہر ہو جاتے ہیں۔ ادویات اثر کرناچھوڑ دیتی ہیں۔ کینسرتک ہو جاتا ہے۔ جسم میں سوزش شروع ہو جاتی ہے جسے انفلامیشن کہتے ہیں جو دراصل جسم کے خودکاردفاعی نظام کے حرکت میں آنے نام ہے۔ انفلامیشن کے نتیجے میں خون میں موجود سفید سیلز مالیکویولز کی حفاظت کرتے ہیں۔ زیادہ تر اجزاء خون کے ذریع سفر کرتے ہیں جس کی وجہ سے بلڈوسلز (شریانوں)کو شدید نقضان پہنچتا ہے ان میں سوجن ہو جاتی ہے۔خون کی باریک رگیں (کیپلیریز) اور آرٹریز کی اندرونی سطحیں زخمی اور نازک ہوجاتیں ہیں جن میں کولیسٹرول جذب ہو جاتا ہے اور جمنا شروع ہو جاتا ہے۔ جسے کہا جاتا ہے رگوں میں کولیسٹرول جم گیا۔ یا پلاک جمنا۔ اس سے ایک تو یہ تنگ ہو جاتیں ہیں ان میں خون کا بہاو کم ہو جاتا ہے اور خون کے لوتھڑے بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ دوسرا یہ سخت ہو جاتیں ہیں۔جب خون آگے نہیں بڑھتا تو دل کو بھی مزید زور لگانا پڑھتا ہے۔ بی پی ہائی رہنے لگتا ہے، رگوں کی بلاکیج، ہارٹ اٹیک، فالج،ڈیپریشن، چڑچڑاپن، غصہ دن بہ دن بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔چونکہ پورے جسم میں کیپلیریز ہوتیں ہیں اسی لیے تمام اعضاء ہی بیمار ہو جاتے ہیں جنھیں خون کی فراہمی کم یا زیادہ ہو جاتی ہے۔ لیکن گردے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں پھر آنکھیں۔اعصابی نظام نروس سسٹم شدید متاثر ہوتا ہے جس میں پاوں تک کاٹنے پڑھ جاتے ہیں زخم ناسور بن جاتے ہیں۔اسپائک کو کم کرنے کے لیے زیادہ انسولین بنتا ہے جس سے خون میں گلوکوز بہت کم رہ جاتا ہے تو بھوک لگتی ہے جسکی وجہ سے دوبارہ کھانا پڑتا ہے۔دماغ کو ایک جیسی اور مستقل انرجی چاہیے ہوتی ہے لیکن بار با ر شوگر کے کم یا زیادہ ہونے کی وجہ سے دماغی صحت پربہت برا اثر پڑتا ہے۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔یاداشت تک چلی جاتی ہے۔
خون میں گلوکوز زیادہ ہونے کی وجہ سے یعنی اسپائک کی وجہ سے زیادہ گلوکوز جاتا ہے سیلز میں تو وہاں آکسیڈیشن بھی زیادہ ہوتی ہے جس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف فری ریڈیکلز زیادہ بنتے ہیں تو وہاں انرجی بھی زیادہ بنتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ بننے والی انرجی خون میں موجود ایک چکنائی ٹرائگلیسرائڈ میں جمع ہو جاتی ہے جو بعد میں استعمال ہوجاتی ہے۔ لیکن ٹرائگلیسرائڈ کی وجہ سے خون کی رگیں مزید سخت ہو جاتیں ہیں جو دل کے امراض کاسبب بنتی ہیں۔
اگر مختصر دیکھیں تو ریفائنڈ چینی اوردیگر کاربز کھانے کہ وجہ سے خون میں گلوکوز ہائی ہوا جس کی وجہ سے اسپائک آئی۔ اسپائک کی وجہ سے زیادہ گلوکوز گیا سیلز میں جہاں زیادہ آکسیڈیشن ہوئی تو زیادہ فری ریڈیکلز اور توانائی بنی۔زیادہ فری ریڈیکلز بنے تو زیادہ آکسیڈیٹو اسٹرس ہوئی تو زیادہ انفلامیشن ہوئی تو زیادہ کولیسٹرول جمع ہو ا رگوں میں۔اگر انفلامیشن نہ ہوتی تو کولیسٹرول نہ جمتا۔ اگر آکسیڈیٹو اسٹرس نہ ہوئی تو زیادہ انفلا میشن بھی نہ ہوتی۔اگر فری ریڈیکلز زیادہ نہ بنتے تو آکسیڈیٹو اسٹرس نہ ہوتی۔اگر زیادہ آکسیڈیشن نہ ہوئی تو زیادہ فری ریڈیکلز بھی نہ بنتے اور نہ زیادہ توانائی بنتی۔ اگر خون میں اسپائک نہ ہوتی تو زیادہ آکسیڈیشن بھی نہ ہوتی۔ اگر سادہ کاربز نہ کھاتے تو نہ زیادہ گلوکوز ہوتا خون میں اور نہ اسپائک آتی اور نہ یہ سب بیماریاں گتی۔ تو در حیقت سمپل کاربوہائیڈریٹس ہی وجہ ہیں تمام امراض کے۔
Comments
Post a Comment